اے ٹی ایم فراڈ سے خبردار، سائبر کرمنلز شہریوں کو کیسے پھنساتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
(ویب ڈیسک)بینکوں اور ماہرین نے "اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ" فراڈ سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔
اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ کے ذریعے اسکیمرز کیش سلاٹ کو روکتے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مشین نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، جعلساز گروہ رقم نکلنے والے حصے کو بلاک کر دیتے ہیں تاکہ شہریوں کی رقم باہر نہ نکل سکے۔
اے ٹی ایم استعمال کرنے والے کے پیسے ان کے اندر پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اے ٹی ایم استعمال کرنے والے شخص کے چلے جانے کے بعد اسکیمرز پیسے نکال لیتے ہیں، اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ ایک طریقہ ہے جسے سائبر کرمنلز اے ٹی ایم پر استعمال کرتے ہیں۔
فضائی آلودگی کا وبال، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں پھر سرفہرست
سائبر کرمنلز مخصوص ڈیوائسز کے ذریعے صارفین کی نقد رقم کو پھنساتے اور بعد ازاں اسے ہتھیا لیتے ہیں، ملزمان اے ٹی ایم کے اندر ایک ڈیوائس داخل کرتے ہیں جو کیش ڈسپنسر کی طرف سے صارفین کو الاٹ کی گئی نقد رقم کو پھنساتی ہے۔
اس طریقہ واردات میں استعمال ہونے والا آلہ عام طور پر "گلو ٹریپ" کہلاتا ہے جو اے ٹی ایم کیش سلاٹ کے اندر یا اس کے سامنے نصب کیا جاتا ہے۔
پیسے پھنسانے کے لیے اصلی کیش ڈسپنسر کے سامنے ایک جعلی اے ٹی ایم کیش ڈسپنسر رکھا جاتا ہے،اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ میں دو طرح کے کیش ٹریپس استعمال ہوتے ہیں جو ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کہلاتے ہیں۔
حافظ آباد: بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے، مرد و خواتین گتھم گتھا
ٹائپ ون کیش ٹریپس صارفین کو نظر آتے ہیں لیکن صارفین ٹریپس اور اے ٹی ایم کے اصل ڈسپنسر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے جبکہ ٹائپ ٹو چھپی ہوئی ڈیوائسز ہوتی ہیں جو اے ٹی ایم کے اندر چھپاکر رکھی جاتی ہیں اور صارف کو اس کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔
جرائم پیشہ افراد اکثر جعلی شٹر یا نقلی کیش ڈسپنسر بھی نصب کر دیتے ہیں تاکہ اصلی رقم پھنس جائے اور ملزمان آسانی سے رقم اپنے قبضے میں لے سکیں۔
امریکی ریاست الاسکا میں زلزلہ، شدت 5.
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری احتیاط تدابیر استعمال کر کے اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ فراڈ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری کارڈ سلاٹ کو چیک کریں ،اگر کچھ غیر معمولی لگے تو استعمال نہ کریں، مشکوک چیزیں، جھوٹے یا ڈھیلے شٹر، اضافی حصے یا کوئی تار وغیرہ دیکھنے پر فوراً مشین استعمال نہ کریں۔
پن درج کرتے وقت کی پیڈ کو ڈھانپیں اور اسے کبھی شئیر نہ کریں،رقم نہ نکلنے کی صورت میں اے ٹی ایم نہ چھوڑیں اور اسی وقت اپنے بینک سے رابطہ کریں اور اگر اے ٹی ایم مشین میں کچھ مشتبہ نظر آئے تو اسے استعمال نہ کریں اور رپورٹ کریں۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوسرا ٹی 20 آج ، لاہور کے کونسے رستے بندہونگے؟
اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ بینکوں کو اپنی اے ٹی ایم مشینوں پر "اینٹی کیش ٹریپنگ" ڈیوائسز انسٹال کرنی چاہیں اور بینکوں کو مشینوں کو بروقت اپ گریڈ کرنا چاہیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ملزمان ٹیکنالوجی میں ماہر ہو رہے ہیں ویسے ویسے وارداتوں کے طریقے بھی پیچیدہ ہو رہے ہیں، اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ اے ٹی ایم ڈیزائن اور سکیورٹی پروٹوکول میں مسلسل بہتری لائیں اور عوامی آگاہی مہمات تیز کریں تاکہ صارفین خود کو اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رکھ سکیں۔
امریکی سینیٹ نے مختلف ممالک پر لگائے ٹرمپ ٹیرف کو مسترد کردیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کیش ڈسپنسر استعمال کر فراڈ سے کے اندر
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔