امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے عالمی محصولات کے منصوبے کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی محصولات (Global Tariffs) کے منصوبے کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے، جو گزشتہ تین دنوں میں اس نوعیت کی تیسری قرارداد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی پابندیوں کا شاخسانہ، روسی نیفتھا بردار جہاز بھارتی ساحل پر پھنس گیا
51 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد میں چار ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ ان میں رینڈ پال، لیزا مرکووسکی، سوزن کولنز اور مچ میکونل شامل ہیں۔
قرارداد کے ذریعے ٹرمپ کے اس قومی ایمرجنسی حکم کو ختم کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے تحت انہوں نے رواں سال دنیا بھر کے بیشتر ممالک پر 10 سے 50 فیصد تک کے محصولات عائد کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے دورہ جنوبی کوریا سے چند گھنٹے قبل شمالی کوریا کا کروز میزائل تجربہ
سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ تجارتی خسارے کو ’قومی ہنگامی صورتحال‘ قرار دینا بے معنی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک حسابی غلط فہمی ہے جو کسی حقیقی قدر یا فائدے کا اشارہ نہیں دیتی۔
یہ قرارداد محض علامتی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ایوانِ نمائندگان کی ریپبلکن قیادت نے مارچ تک اس معاملے پر ووٹنگ مؤخر کر رکھی ہے۔ اگر ایوان میں قرارداد منظور بھی ہو جائے تو صدارتی ویٹو کو مسترد کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
ٹرمپ اس وقت اپنے ایشیائی دورے میں محصولات کو تجارتی معاہدوں اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ سینیٹ کی یہ کارروائی ان کے اقتصادی ایجنڈے کے خلاف ایک واضح سیاسی پیغام سمجھی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی سینیٹ ٹیرف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی سینیٹ ٹیرف ٹرمپ کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔