کرپٹو کرنسی کی مبینہ واردات، مسافر کے والٹ سے 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر غائب
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہر قائد کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک پراسرار اور سنسنی خیز واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں پشاور کے 22 سالہ نوجوان فیض یاب نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ڈیجیٹل والٹ سے 8 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر مالیت کا USDT (کرپٹو کرنسی) مبینہ طور پر ٹرانسفر کر لیا گیا۔
فیض یاب کے مطابق یہ واقعہ ایئرپورٹ ٹرمینل کے اندر اُس وقت پیش آیا جب وہ اپنی پرواز کے انتظار میں تھا۔ اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے اچانک اپنے Binance اکاؤنٹ سے لاگ آؤٹ نوٹیفکیشن موصول ہوا، اور چند ہی منٹوں میں اُس کا اکاؤنٹ، جی میل، اور ریکوری ای میل تینوں ہیک کر کے بلاک کر دیے گئے۔
نوجوان کے مطابق اس نے معاملے کی اطلاع فوری طور پر ایئرپورٹ پولیس، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ حکام کو دی، تاہم اب تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
فیض یاب کے وکیل نے الزام لگایا ہے کہ حکام کو متعدد درخواستیں دینے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی، بلکہ معاملہ دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایئرپورٹ اتھارٹی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “CCTV فوٹیج میں کوئی غیر معمولی سرگرمی نظر نہیں آئی۔” حکام کے مطابق، واقعے کے وقت ایئرپورٹ کے داخلی راستوں اور ٹرمینل ایریا میں کسی مشکوک شخص کی موجودگی ریکارڈ پر نہیں۔
فیض یاب کا کہنا ہے کہ پولیس نے غلط فوٹیج کا جائزہ لیا ہے اور اصل مقام سے ریکارڈ حاصل نہیں کیا گیا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ “میں کراچی کرپٹو انویسٹمنٹ سے متعلق کاروباری ملاقات کے لیے آیا تھا، مگر واپسی سے قبل میرا پورا اکاؤنٹ منظم طریقے سے ہیک کر کے خالی کر دیا گیا۔”
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس واقعے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فیض یاب کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق اب تک کی سب سے بڑی مبینہ سائبر واردات ہو سکتی ہے۔
فی الحال حکام کی جانب سے باضابطہ تحقیقات یا کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، واقعے نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے تحفظ اور ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیض یاب
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔