امریکا میں گرفتار مبینہ پاکستانی دراصل افغان شہری نکلا، دفتر خارجہ کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
امریکا میں گرفتار مبینہ پاکستانی دراصل افغان شہری نکلا، دفتر خارجہ کی وضاحت WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) امریکا میں گرفتار مبینہ پاکستانی دراصل افغان شہری نکلا ہے، دفتر خارجہ نے بھی اس حوالے سے وضاحت کر دی۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے امریکا میں گرفتار شخص سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکا میں پکڑا گیا لقمان خان پاکستانی شہری نہیں بلکہ افغان شہری ہے۔
ترجمان کے مطابق حکومتی سطح پر کی گئی انکوائری کے نتائج میں واضح ہوا کہ لقمان خان افغان شہری ہے، پاکستانی نہیں، وہ بطور مہاجر کچھ عرصہ پاکستان میں مقیم رہا، اپنی زندگی کا زیادہ حصہ امریکا میں گزارا ہے۔
طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں اسے ’’پاکستانی شہری‘‘ قرار دینا حقائق کے منافی ہے لہٰذا اس حوالے سے درست معلومات سامنے رکھنا ضروری ہے۔
اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ 25 سالہ لقمان خان کی گرفتاری 24 نومبر کی رات عمل میں لائی گئی تھی۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پولیس نے کینبی پارک ویسٹ میں ایک ٹرک کو روکا جس میں لقمان موجود تھا، لقمان خان نے گاڑی سے باہر نکلنے کے احکامات نہ مانے اور مزاحمت کرنے پر اسے گرفتار کیا گیا۔
امریکی میڈیا نے رپورٹ میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران لقمان خان کے ٹرک سے پستول، میگزین اور مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کی دستاویز برآمد ہوئیں۔
لقمان خان کے ٹرک سے برآمد ہونے والی دستاویز میں یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کے پولیس سٹیشن کا خاکہ، داخلی اور خارجی دروازوں کے نشانات اور ایک پولیس افسر کا نام بھی درج تھا، ایف بی آئی نے گرفتار ی کے ایک روز بعد 25 نومبر کو لقمان خان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا جہاں سے مزید جدید اسلحہ برآمد کیا گیا۔
امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ لقمان خان پاکستانی نژاد امریکی شہری اور یونیورسٹی آف ڈیلاویئر کا طالب علم ہے اور ملزم نے اسی یونیورسٹی کے پولیس ڈپارٹمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ، اہم شخصیت کا ایمان اور ہادی کی وکالت کرنے کا فیصلہ متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ، اہم شخصیت کا ایمان اور ہادی کی وکالت کرنے کا فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم، جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق پنجاب میں دھند کا راج برقرار، موٹر وے ایم 5 اوچ شریف سے ظاہر پیر تک بند امریکی صدر کا ہائی اسکلڈ ورکرز کیلئے ویزا شرائط سخت کرنے کا حکم خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا خطرہ موجود ہے، سلمان اکرم راجا پنجاب کی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ،9اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزتبدیل ، تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکا میں گرفتار افغان شہری دفتر خارجہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔