ایف 16 لڑاکا طیارہ دورانِ پرواز آگ لگنے سے تباہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
جنوبی کیلیفورنیا میں امریکی فضائیہ کا تھنڈر برڈ ایف-16 سی لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ امریکی فضائیہ کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان کے مطابق پائلٹ نے محفوظ طور پر ایجیکٹ کرکے جان بچا لی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق فضائیہ نے اپنے بیان میں حادثے کی وجوہات کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی اور کہا ہے کہ واقعہ تحقیقات کے مراحل میں ہے۔ مزید معلومات 57ویں ونگ کے پبلک افیئرز آفس کی جانب سے فراہم کی جائیں گی۔
حادثے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پائلٹ نے وقت پر طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوا، جبکہ طیارہ زمین سے ٹکرانے کے فوراً بعد شعلوں کی لپیٹ میں آ تباہ ہوگیا۔
امریکی فضائیہ کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر ایک تربیتی مشن کے دوران ’’کیلیفورنیا کی کنٹرولڈ ایئر اسپیس‘‘ میں پیش آیا۔
pic.
— Thunderbirds (@AFThunderbirds) December 3, 2025
لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ جیٹ نیلیس ایئر فورس بیس پر قائم فضائیہ کی ایلیٹ ڈیمونسٹریشن ٹیم تھنڈر برڈز کے لیے مختص تھا۔
BREAKING: An F-16C Fighting Falcon from the U.S. Air Force Thunderbirds crashed near Trona Airport, close to Death Valley, during a training flight.
The jet went down in a remote desert area under unknown circumstances. The pilot ejected safely and sustained minor injuries… pic.twitter.com/YLJOZbS4gV
— Washington Report (@Washington_Rep) December 3, 2025
سان برنارڈینو کاؤنٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پائلٹ کو طیارے سے ہنگامی صورتحال سے نکلنے کے دوران معمولی چوٹیں آئیں جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکا کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ٹرونا کے قریب ایئرکرافٹ ایمرجنسی کا جواب دیا۔ ٹرونا موہاوی صحرا میں واقع ایک غیر شامل شدہ بستی ہے جو لاس اینجلس سے تقریباً 180 میل (290 کلومیٹر) شمال میں واقع ہے۔
ایف-16 سی طیارہ ایک مخصوص سنگل سیٹ ورژن ہے، جس میں ایف- 16 اے اور بی جیسے پرانے ماڈلز کے مقابلے میں بہتر ایویونکس اور جدید ہتھیاروں کے فیچرز شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔