وفاقی پولیس کا انسداد سائبر کرائم ونگ ختم کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی پولیس کا انسداد سائبر کرائم ونگ ختم کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سائبر کرائم ونگ میں کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کو سی ٹی ڈی میں ٹرانسفر کردیا گیا ہے جب کہ سائبر کرائم ونگ کے پاس موجود مقدمات اور انکوائریز این سی سی آئی اے کے حوالے کردی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی میں ٹرانسفر کیے گئے انسداد سائبر کرائم ونگ میں تعینات افسران و کانسٹیبلز کی تعداد 22 ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق انچارج سائبر کرائم ونگ انسپکٹر آصف خان ، 3 سب انسپکٹر، 2 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 6 لیڈی کانسٹیبلز اور 10مرد کانسٹیبلز کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے سائبر کرائم ونگ کے پاس 112 شکایات تھیں۔ 2 مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے جاچکے ہیں جب کہ 20 شکایات انکوائریز کی اسٹیج پر ہیں اور 90 شکایات پر بھی قانونی کارروائی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔