Jasarat News:
2026-07-24@07:08:43 GMT

سائنسدانوں نے ذہنی بیماری کے اصل سبب کی نشاندہی کر دی

اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برلن: جرمنی کے سائنسدانوں نے GRIN2A نامی جین کو پہلا ایسا واحد جین قرار دیا ہے جو براہِ راست ذہنی بیماری پیدا کر سکتا ہے، حالانکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ذہنی امراض مختلف جینز کے مجموعی اثر سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دریافت سائنسی جریدے مالیکیولر سائیکیٹری میں شائع ہوئی۔

تحقیق کے مطابق GRIN2A کی کچھ مخصوص اقسام رکھنے والے افراد میں ذہنی بیماری کی علامات عام طور پر بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہیں، بعض اوقات بچپن میں، جبکہ زیادہ تر ذہنی امراض بلوغت یا بالغ عمر میں نمودار ہوتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جن میں اضطراب اور ڈپریشن سب سے عام ہیں۔ خاندان میں قریبی رشتے دار کا ذہنی بیماری میں مبتلا ہونا اب بھی سب سے مضبوط پیش گوئی کرنے والا عامل ہے۔

پروفیسر یُوہانس لیمکے، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہیومن جینیٹکس، لیپزگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے کہا کہ GRIN2A واحد جین ہے جو اپنے طور پر ذہنی بیماری پیدا کرسکتا ہے، اس لحاظ سے یہ دیگر کثیرالجینی وجوہ سے مختلف ہے۔

تحقیق میں 121 افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ GRIN2A کی تبدیلیاں سکیزوفرینیا اور دیگر ذہنی بیماریوں سے وابستہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ افراد میں صرف ذہنی علامات ظاہر ہوئیں، حالانکہ یہ جین عموماً مرگی یا ذہنی معذوری سے بھی جڑا ہوتا ہے۔

یہ جین دماغ کے اعصابی خلیوں کے برقی سگنلز کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ابتدائی طبی تجربات میں L-serine سپلیمنٹ دینے سے مریضوں میں ذہنی علامات میں بہتری دیکھی گئی، کیونکہ یہ NMDA ریسیپٹر کو فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پروفیسر لیمکے اور پروفیسر زِربی نے 15 سال کے تحقیقی کام کے بعد دنیا کا سب سے بڑا GRIN2A مریضوں کا بین الاقوامی رجسٹری قائم کیا، جو مستقبل میں بچوں میں glutamate receptor سے متعلق ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق