سائنسدانوں نے ذہنی بیماری کے اصل سبب کی نشاندہی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن: جرمنی کے سائنسدانوں نے GRIN2A نامی جین کو پہلا ایسا واحد جین قرار دیا ہے جو براہِ راست ذہنی بیماری پیدا کر سکتا ہے، حالانکہ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ ذہنی امراض مختلف جینز کے مجموعی اثر سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دریافت سائنسی جریدے مالیکیولر سائیکیٹری میں شائع ہوئی۔
تحقیق کے مطابق GRIN2A کی کچھ مخصوص اقسام رکھنے والے افراد میں ذہنی بیماری کی علامات عام طور پر بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہیں، بعض اوقات بچپن میں، جبکہ زیادہ تر ذہنی امراض بلوغت یا بالغ عمر میں نمودار ہوتے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جن میں اضطراب اور ڈپریشن سب سے عام ہیں۔ خاندان میں قریبی رشتے دار کا ذہنی بیماری میں مبتلا ہونا اب بھی سب سے مضبوط پیش گوئی کرنے والا عامل ہے۔
پروفیسر یُوہانس لیمکے، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ہیومن جینیٹکس، لیپزگ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے کہا کہ GRIN2A واحد جین ہے جو اپنے طور پر ذہنی بیماری پیدا کرسکتا ہے، اس لحاظ سے یہ دیگر کثیرالجینی وجوہ سے مختلف ہے۔
تحقیق میں 121 افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، جس میں دکھایا گیا کہ GRIN2A کی تبدیلیاں سکیزوفرینیا اور دیگر ذہنی بیماریوں سے وابستہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ افراد میں صرف ذہنی علامات ظاہر ہوئیں، حالانکہ یہ جین عموماً مرگی یا ذہنی معذوری سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
یہ جین دماغ کے اعصابی خلیوں کے برقی سگنلز کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ابتدائی طبی تجربات میں L-serine سپلیمنٹ دینے سے مریضوں میں ذہنی علامات میں بہتری دیکھی گئی، کیونکہ یہ NMDA ریسیپٹر کو فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پروفیسر لیمکے اور پروفیسر زِربی نے 15 سال کے تحقیقی کام کے بعد دنیا کا سب سے بڑا GRIN2A مریضوں کا بین الاقوامی رجسٹری قائم کیا، جو مستقبل میں بچوں میں glutamate receptor سے متعلق ذہنی امراض کی تشخیص اور علاج میں رہنمائی فراہم کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔