پاکستان میں متعدد ائیرپورٹس غیر فعال، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں مجموعی طور پر 151 ائیرپورٹس اور لینڈنگ اسٹرپس موجود ہیں، لیکن فعال یا بین الاقوامی ائیرپورٹس کی تعداد محض 10 ہے۔ ان میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، سیالکوٹ، پشاور، فیصل آباد اور کوئٹہ جیسے اہم ائیرپورٹس شامل ہیں، جو فی الحال مکمل فعال بین الاقوامی ائیرپورٹس کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب نیو گوادر، اسکردو اور نیو میرپور ائیرپورٹس بین الاقوامی درجہ رکھنے کے باوجود غیر فعال ہیں، اور یہاں سے نہ تو ملکی پروازیں باقاعدگی سے چل رہی ہیں اور نہ ہی غیر ملکی پروازوں کی آمد و رفت ہو رہی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے ائیرپورٹس پر بھی دن کے اوقات میں غیر ملکی پروازیں بہت کم ہیں، جس کی وجہ سے یہ عالمی معیار کے مطابق مکمل فعال ائیرپورٹس نہیں کہلائے جا سکتے۔
ملک میں مقامی سطح کے ائیرپورٹس کی تعداد 43 ہے، جبکہ 98 انتہائی چھوٹے ائیرپورٹس، لینڈنگ اسٹرپس یا فوجی ہوا بازی کے مقامات ہیں، جو زیادہ تر محدود یا خصوصی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے بیشتر ائیرپورٹس زیر استعمال یا مکمل غیر فعال ہیں، جس سے ملکی اور بین الاقوامی سفر پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔