سر بڑا اور ہیلمٹ چھوٹا، شہری کا پنجاب پولیس کے سامنے انوکھا مقدمہ، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
حکومت پنجاب نے صوبے میں موٹر سائیکل سواروں کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے اور روڈ حادثات کی روک تھام کے لیے غیر لائسنس یافتہ، بغیر ہیلمٹ اور کم عمر موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ہیلمٹ پہننے کے قوانین پر دلچسپ میمز اور ویڈیوز شیئر کرنا شروع کر دی ہیں، جن میں بعض افراد نے یہاں تک دکھایا کہ وہ سوتے ہوئے بھی ہیلمٹ پہن کر چالان سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چالان سے بچنے کے لیے گدھے نے بھی ہیلمٹ پہن لیا، دلچسپ ویڈیو سامنے آگئی
ایک نئی وائرل ویڈیو میں ایک شخص پولیس اہلکار کے سامنے ہیلمٹ پہن کر کھڑا نظر آ رہا ہے تاہم ہیلمٹ اس کے سر کے لیے چھوٹا ہے۔ ویڈیو میں شخص کہتا دکھائی دیتا ہے کہ ’جب میرے سر کے سائز کا ہیلمٹ ملتا ہی نہیں تو میں کیا کروں؟‘۔
انکل نے قانون کو مشکل میں ڈال دیا ہے
جب میرے سر کے سائز کا ہیلمٹ ملتا ہی نہیں تو میں کیا کروں ???? pic.
— Fayyaz Shah (@RebelByThought) December 4, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے کیے ہیں۔ ایک صارف فیاض شاہ نے لکھا کہ ’انکل نے قانون کو مشکل میں ڈال دیا ہے‘۔ زبیر علی خان لکھتے ہیں کہ اس مسئلے کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟
اس مسئلے کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟ pic.twitter.com/3quylOPosQ
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) December 4, 2025
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکل سوار ’انکل‘ نے ٹریفک نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہتے ہیں بتاؤ ہیلمٹ کیسے پہنوں؟
موٹرسائیکل سوار ’انکل‘ نے ٹریفک نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ ۔ ۔ ۔ کہتے ہیں بتاؤ ۔ ۔ ۔ کیسے پہنوں ہیلمٹ؟ @asifbashirch @awaisReporter @awaiskiyani24 @HussainAhmedCh8 pic.twitter.com/jhn6thF7IB
— Media Talk (@mediatalk922) December 4, 2025
صارفین نے طنزاً کہا کہ ان انکل پر تو یہ قانون لاگو ہی نہیں ہوتا جبکہ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ بڑے سائز کے ہیلمٹ بھی ملتے ہیں بہانے نہ بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پولیس چالان موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب پولیس چالان موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔