سکھر، ریلوے کوارٹرز پر غیر قانونی قبضوں کیخلاف آپریشن 2کوارٹر مسمار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت)ریلوے کوارٹرز پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف ریلوے انتظامیہ کا آپریشن دو کوارٹر مسمار، مزاحمت پر علاقے میں کشیدگی، ہوائی فائرنگ سے ماحول جنگی صورتحال اختیار کرگیا ریلوے انتظامیہ نے سکھر میں ریلوے کوارٹرز پر قائم غیر قانونی قبضوں کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے دو کوارٹر خالی کراکر مسمار کر دیے۔ آپریشن کے دوران متاثرہ مکینوں کی شدید مزاحمت اور احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی، جبکہ ریلوے پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جس سے علاقہ کچھ دیر کے لیے میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ریلوے انتظامیہ نے کوارٹرز پر قبضہ ختم کرانے کے لیے ڈی این ای ون جہانزیب خان کی قیادت میں عملے اور ریلوے پولیس کے ہمراہ نیو پنڈ ریلوے کالونی کے کوسا پاڑے میں کارروائی کی۔ انتظامیہ نے دو کوارٹرز سے سامان باہر نکال کر انہیں خالی کرایا اور بعد ازاں مسمار کر دیا۔کوارٹرز میں رہائش پذیر شیدی برادری کی خواتین اور بچوں نے کارروائی کے دوران بھرپور مزاحمت کی اور احتجاج کیا۔ احتجاجی مکینوں کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ان کوارٹرز میں رہ رہے ہیں اور ریلوے انتظامیہ نے بلا جوازان کے گھروں کو مسمار کیا۔حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب مشتعل افراد نے کوارٹرز خالی کرنے سے انکار کیا، جس پر ریلوے پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ریلوے پولیس نے ہوائی فائرنگ کر کے متاثرین کو پیچھے ہٹایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ریلوے حکام کے مطابق قبضہ مافیا اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ملک گیر کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ علاقہ پہنچنے پر قبضہ گروہ کی جانب سے پہل کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں پولیس نے حفاظتی اقدام کے طور پر ہوائی فائرنگ کی۔انتظامیہ کا واضح کہنا ہے کہ مذکورہ کوارٹرز پر غیر قانونی قبضہ تھا، جو قواعد و ضوابط کے مطابق ختم کرایا گیا ہے۔علاقے میں فائرنگ اور مزاحمت کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بے گھر کرنے کے بجائے مناسب متبادل فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری املاک پر قبضہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔آپریشن کے بعد علاقے میں صورتحال معمول پر آگئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریلوے انتظامیہ ہوائی فائرنگ انتظامیہ نے ریلوے پولیس کوارٹرز پر علاقے میں
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔