بنوں میں فائرنگ سے اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان اور پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-01-23
بنوں (مانیٹرنگ ڈیسک) بنوں میں گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق بنوں میں میران شاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، واقعہ بنوں میں میرانشاہ روڈ پر فلور ملز کے قریب پیش آیا جس میں اسسٹنٹ کمشنر اور 2 پولیس اہل کار شہید ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق واقعے میں ایک اور شخص بھی جاں بحق ہوا ہے جبکہ حملہ آور زخمی اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین کر لے گئے۔ حملہ آوروں نے بعد ازاں گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری جائے وقوع پر پہنچی اور شواہد جمع کرکے لاشوں و زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ شہید اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ شاہ ولی اور 2 پولیس جوانوں کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں آئی جی خیبرپختونخوا، جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ اور دیگر عسکری و سول حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بنوں میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اسسٹنٹ کمشنر اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملک دشمن عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور 2 پولیس
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔