WE News:
2026-07-24@03:29:21 GMT

بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اسسٹنٹ کمشنر کون تھے؟

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اسسٹنٹ کمشنر کون تھے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشتگردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ، شمالی وزیرستان شاہ ولی خان کی نمازِ جنازہ بنوں کینٹ میں ادا کردی گئی۔

نمازِ جنازہ میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد میتیں اُن کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔

مزید پڑھیں: بنوں میں سرکاری گاڑی پر حملہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 3 زخمی

حملہ کہاں ہوا اور اب تک کیا پیش رفت ہوئی؟

بنوں پولیس کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو بنوں میران شاہ روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ پہلے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے بعد گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ حملے میں اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شاہ ولی خان، ان کے 2 پولیس محافظ اور ایک شہری شہید ہوگئے، جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد نامعلوم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا کہ دہشتگردوں نے گھات لگا کر سرکاری افسر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم اب تک کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دہشتگردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے شاہ ولی کون تھے؟

منگل کی صبح دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے شاہ ولی خان خیبر پختونخوا پروفیشنل مینجمنٹ سروس کے افسر تھے اور شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے۔ وہ پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ میں ایک کیس کی پیشی کے سلسلے میں آرہے تھے۔

شاہ ولی خان نے 2020 میں مقابلے کا امتحان پاس کرکے سروس جوائن کی اور مختلف اضلاع میں تعینات رہے۔ 2024 سے وہ شمالی وزیرستان میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا سے تھا اور ان کا ایک بیٹا ہے۔

فرض شناس افسر

ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے شاہ ولی خان پر حملے اور شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔

’ہم پروونشل مینجمنٹ سروس خیبرپختونخوا کے قابل اور فرض شناس افسر، اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شاہ ولی خان (شہید) کی اپنے 2 باڈی گارڈز سمیت المناک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ دورانِ ڈیوٹی بنوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے اور پولیس کے 2 بہادر سپاہیوں سمیت شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے، جبکہ 3 جوان فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوئے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ شاہ ولی خان ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور شفیق افسر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری، سادگی، خلوص اور بہترین نظم و ضبط کے ساتھ عوامی خدمت کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان: اغواکاروں نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت قتل کردیا

’اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ کی حیثیت سے انہوں نے امن و امان، عوامی سہولت اور انتظامی بہتری کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات اور فرض شناسی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسسٹنٹ کمشنر بنوں دہشتگردی نشانہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دہشتگردی وی نیوز اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شمالی وزیرستان شاہ ولی خان

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل