بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اسسٹنٹ کمشنر کون تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دہشتگردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ، شمالی وزیرستان شاہ ولی خان کی نمازِ جنازہ بنوں کینٹ میں ادا کردی گئی۔
نمازِ جنازہ میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ نمازِ جنازہ کے بعد میتیں اُن کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئیں۔
مزید پڑھیں: بنوں میں سرکاری گاڑی پر حملہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 3 زخمی
حملہ کہاں ہوا اور اب تک کیا پیش رفت ہوئی؟
بنوں پولیس کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو بنوں میران شاہ روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ پہلے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے بعد گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔ حملے میں اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شاہ ولی خان، ان کے 2 پولیس محافظ اور ایک شہری شہید ہوگئے، جبکہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد نامعلوم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ابتدائی تفتیش میں بتایا گیا کہ دہشتگردوں نے گھات لگا کر سرکاری افسر کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم اب تک کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دہشتگردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے شاہ ولی کون تھے؟
منگل کی صبح دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے شاہ ولی خان خیبر پختونخوا پروفیشنل مینجمنٹ سروس کے افسر تھے اور شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے۔ وہ پشاور ہائیکورٹ بنوں بینچ میں ایک کیس کی پیشی کے سلسلے میں آرہے تھے۔
شاہ ولی خان نے 2020 میں مقابلے کا امتحان پاس کرکے سروس جوائن کی اور مختلف اضلاع میں تعینات رہے۔ 2024 سے وہ شمالی وزیرستان میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا سے تھا اور ان کا ایک بیٹا ہے۔
فرض شناس افسر
ضلعی انتظامیہ شمالی وزیرستان نے شاہ ولی خان پر حملے اور شہادت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔
’ہم پروونشل مینجمنٹ سروس خیبرپختونخوا کے قابل اور فرض شناس افسر، اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شاہ ولی خان (شہید) کی اپنے 2 باڈی گارڈز سمیت المناک شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ دورانِ ڈیوٹی بنوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کا نشانہ بنے اور پولیس کے 2 بہادر سپاہیوں سمیت شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے، جبکہ 3 جوان فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوئے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ شاہ ولی خان ایک باصلاحیت، خوش اخلاق اور شفیق افسر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ دیانت داری، سادگی، خلوص اور بہترین نظم و ضبط کے ساتھ عوامی خدمت کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: اغواکاروں نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت کو بیٹے سمیت قتل کردیا
’اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ کی حیثیت سے انہوں نے امن و امان، عوامی سہولت اور انتظامی بہتری کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات اور فرض شناسی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسسٹنٹ کمشنر بنوں دہشتگردی نشانہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگردی وی نیوز اسسٹنٹ کمشنر میران شاہ شمالی وزیرستان شاہ ولی خان
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎