پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران 63,970 جرمانے عائد، ہزاروں گاڑیاں ضبط
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پنجاب ٹریفک پولیس کی جانب سے گذشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے بھر میں تقریباً 63,970 گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں پر چالان کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ان چالانوں کے نتیجے میں تقریباً 8 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار روپے جرمانے وصول کیے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ ان میں سے 28 ہزار چالان ہیلمٹ نہ پہننے پر تھے۔ یعنی موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمٹ نہ پہننے والے افراد کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔
مزید برآں 4,312 افراد کے خلاف مختلف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کیے گئے۔ تقریباً 23,904 گاڑیاں مختلف تھانوں میں ضبط بھی کر لی گئیں۔
ٹریفک قوانین کو مزید موثر بنانے کیلئے پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور بعض شہروں جیسے فیصل آباد، گجرانوالہ، راولپنڈی اور ملتان میں ڈرونز کے ذریعے نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ ہیلمٹ نہ پہننے، غیر لائسنس ڈرائیونگ، ون وے خلاف ورزی، ریڈ سگنل یا لین کی خلاف ورزی جیسے قواعد کی خلاف ورزیاں حادثات اور جان و مال کے نقصان کا بڑا سبب بنتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات انہی خطرات کو روکنے کے لیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔