Express News:
2026-07-23@23:49:16 GMT

ہَوا میں پھیل چلی میٹھی بات کی خُوش بُو

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

زبان ایک چھوٹا سا عضو ضرور ہے، مگر اس کا اثر انسان کی دنیا اور آخرت دونوں پر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبان کے ذریعے خیر کو عام کیا جا سکتا ہے، اور اگر احتیاط نہ برتی جائے تو یہی زبان فتنے اور فساد کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

نبی کریمؐ نے ہمیشہ ایسی گفت گُو کو پسند فرمایا جو مختصر، مگر جامع ہو، اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔ آپ ﷺ کی باتوں میں شفقت، دانائی اور خیرخواہی جھلکتی تھی۔ اصلاح کی ضرورت پڑتی تو نرمی، محبت اور حکمت کے ساتھ بات فرماتے، کسی کو زبان سے ایذا دینا آپ ﷺ کی سیرت کا حصہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی خاموشی بھی علم و حکمت سے لبریز ہوتی، اور جب بولتے تو سننے والے کے دل پر اثر ہوتا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو بھی یہی طریقہ سکھایا کہ زبان سے فحش گوئی، بہتان، غیبت یا دل آزاری کی بات نہ کی جائے بلکہ ایسی بات کی جائے جو دلوں کو جوڑنے والی ہو۔ اگر آج ہم زبان کے استعمال میں سنتِ نبوی ﷺ کو اپنا معیار بنا لیں، تو نہ صرف ہمیں ذاتی سکون نصیب ہوگا بلکہ ہمارا معاشرہ بھی امن، محبت اور خیر خواہی کا نمونہ بن جائے گا۔

 زبان: خیر یا شر کا ذریعہ:

زبان انسان کے باطن کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ یہ کبھی دل کے جذبات کو ظاہر کرتی ہے، تو کبھی عقل کے فیصلے کو زبان دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اﷲ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے: ’’سیدھی بات کہا کرو۔‘‘ (الاحزاب) اس سے مراد ہے کہ انسان کی گفت گُو سچائی، خیرخواہی اور تقویٰ پر مبنی ہو۔ زبان اگر نرمی، اخلاق اور سچائی کے ساتھ استعمال کی جائے تو دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے، نفرتیں محبتوں میں بدل سکتی ہیں، اور دشمنی دوستی میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن یہی زبان اگر قابو سے باہر ہو جائے تو رشتے برباد ہو جاتے ہیں، عزتیں خاک میں مل جاتی ہیں اور دلوں میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ انسان کی نیکی یا بدی کا سب سے نمایاں ذریعہ یہی زبان ہے۔ اگر اسے نیکی، اصلاح اور خیر کی راہ میں استعمال کیا جائے تو یہ صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر اس سے جھوٹ، غیبت، بہتان یا فساد کو ہوا دی جائے، تو یہی زبان دنیا و آخرت میں تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

سنتِ نبوی ﷺ اور زبان کی پاکیزگی

نبی کریمؐ کی زبان ہمیشہ پاکیزہ، نفع بخش اور سنجیدہ ہُوا کرتی تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی بے مقصد بات نہیں کی اور نہ ہی فضول گوئی کو پسند فرمایا۔ آپؐ کی گفت گُو میں ہمیشہ سچائی، نرمی، اور مخلوق کی بھلائی شامل ہوتی تھی۔ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ زبان صرف بات کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کی گفت گُو کی لطافت، فصاحت اور اثرپذیری کے گواہ تھے۔ آپ ﷺ کا اندازِ بیان نہایت مختصر مگر جامع ہوتا تھا، جو دلوں کو چھو جاتا تھا۔ آپ ﷺ کی گفت گُو نہ تو تلخ ہوتی، نہ طنزیہ، بل کہ ہر لفظ میں حکمت اور مروّت ہوتی تھی۔ اگر ہم بھی اس سنت پر عمل کریں تو اپنی زبان کو فساد کے بہ جائے اصلاح کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔

زبان سے پیدا ہونے والے بڑے گناہ

زبان کے ذریعے ہونے والے گناہ اکثر انسان کو تباہی کے دہانے پر لے جاتے ہیں۔ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، چغلی، بہتان تراشی، مذاق اُڑانا اور گالی دینا یہ سب ایسے گناہ ہیں جو زبان سے سرزد ہوتے ہیں، اور ان کے اثرات دیرپا اور مہلک ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیا، جو اس کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ بسا اوقات انسان انجانے میں ایسی بات کہہ دیتا ہے جو کسی کے دل کو زخمی کر دیتی ہے اور تعلقات میں دراڑ ڈال دیتی ہے۔ ایک سخت یا زہریلا جملہ برسوں کے اعتماد کو لمحوں میں ختم کر دیتا ہے۔ زبان کا غلط استعمال صرف دوسروں کو نہیں بلکہ خود انسان کو روحانی اور معاشرتی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے الفاظ کو تول کر بولیں تاکہ کسی کا دل نہ ٹوٹے، اور ہم بھی اﷲ کی ناراضی سے بچ سکیں۔

سوشل میڈیا، جدید زبان کا میدان

آج سوشل میڈیا نے زبان کے اظہار کو نئے رخ دیے ہیں۔ اب باتیں صرف زبان سے نہیں بلکہ انگلیوں سے لکھی جاتی ہیں، مگر ان کے اثرات دلوں تک پہنچتے ہیں۔ کسی کی کردار کشی، جھوٹے الزامات، بے جا تنقید یا فتنہ انگیز گفت گُو، یہ سب بھی زبان کے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں، چاہے وہ تحریری ہو یا زبانی۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ آن لائن لکھا گیا ہر لفظ بے حساب ہے، حالاں کہ ایک مومن کی ہر بات، تحریر اور تبصرہ اﷲ کے علم میں ہے اور اس کا حساب لیا جائے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا پر بھی سچائی، شائستگی، نرمی اور خیر خواہی کو اختیار کریں۔ ہماری پوسٹس، کمنٹس اور پیغامات ہمارے ایمان کے آئینہ دار ہونے چاہییں۔ اگر ہم اس پلیٹ فارم کو بھی ایک ذمہ داری سمجھ کر استعمال کریں تو یہ فتنہ نہیں بلکہ خیر و اصلاح کا میدان بن سکتا ہے۔

زبان اور معاشرتی اثرات

زبان کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ اگر ایک راہ نما، عالم، والدین یا استاد نرمی، سچائی اور حسنِ کلام سے بات کرے تو اس کے اثرات نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی کی زبان میں سختی، طنز یا بدگوئی ہو تو وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے ماحول کو زہر آلود کر دیتی ہے۔ معاشرتی نفرت، بدظنی اور فساد کی جڑ اکثر زبان ہی ہوتی ہے۔ الفاظ جوڑنے بھی سکتے ہیں اور توڑنے بھی، اس لیے الفاظ کے انتخاب میں حکمت، بردباری اور شائستگی لازمی ہے۔ اگر ہر فرد اپنی زبان پر قابو پائے، گالی یا بدگمانی سے اجتناب کرے، تو پورا معاشرہ امن، محبت اور عزت کا نمونہ بن سکتا ہے۔ زبان کا حسن ہی اصل معاشرتی حسن ہے۔

زبان کی حفاظت، ذریعۂ نجات

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’جس شخص نے مجھے اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کی ضمانت دی، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔‘‘ (صحیح بخاری) اس سے زبان کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ صرف دنیاوی معاملات ہی نہیں بلکہ آخرت کی کام یابی میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہم میں سے اکثر نماز، روزے اور دیگر عبادات کا اہتمام تو کرتے ہیں، لیکن زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ کی احتیاط کو معمولی سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ اکثر اوقات یہی زبان انسان کی نیکیوں کو برباد کر دیتی ہے۔ اگر انسان اپنی زبان سے کسی کو تکلیف نہ دے، سچ بولے، فضول گوئی سے بچے اور گالی گلوچ سے اجتناب کرے، تو وہ واقعی جنت کا مستحق بن سکتا ہے۔ زبان کی حفاظت نجات کی راہ ہے، اور ایک محتاط زبان والا شخص درحقیقت اپنے کردار اور ایمان کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔

خاموشی، مومن کی زینت

خاموشی صرف چپ رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ حکمت، وقار اور بصیرت کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے: ’’جو شخص اﷲ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘ (صحیح بخاری۔ مسلم) مؤمن جانتا ہے کہ ہر موقع پر بولنا مناسب نہیں ہوتا، اور ہر بات کا وقت اور موقع الگ ہوتا ہے۔ بعض اوقات خاموشی وہ کام کر جاتی ہے جو لمبی تقریریں بھی نہیں کر پاتیں۔ خاموشی نہ صرف دوسروں کی عزت کا تحفظ کرتی ہے، بلکہ اپنے وقار اور تعلقات کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔ جو شخص غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرتا ہے، وہ گناہوں سے بھی بچتا ہے اور عزت بھی پاتا ہے۔ خاموشی میں تدبّر، سنجیدگی اور دانائی چھپی ہوتی ہے۔ اسلام صرف زبان کے منفی استعمال سے روکتا نہیں بلکہ اس کے مثبت استعمال کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ زبان سے علم دین پہنچانا، نصیحت کرنا، سلام، دعا، تسبیح و اذکار کرنا، کسی کی دل جوئی کرنا یا ہم دردی کے کلمات کہنا یہ سب عبادت کے زمرے میں آتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ لوگوں کو نرم لہجے میں سمجھاتے، ان کے دکھ درد سنتے، اور ان کی دل جوئی فرماتے۔ ایک نرم بات، ایک دعا، یا ایک محبت بھرا جملہ کسی کے دن کو روشن اور زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زبان کو علم، شفقت، اور خیر خواہی کا ذریعہ بنائیں۔ اچھی بات کرنا صدقہ ہے، اور یہ مؤمن کی پہچان ہے۔

زبان کا احتساب

ایک بیدار ضمیر مؤمن ہر دن کے اختتام پر خود سے سوال کرتا ہے: ’’آج میں نے کسی کو زبان سے ایذا تو نہیں دی؟‘‘ یہی سوال اس کی اصلاح کی بنیاد بنتا ہے۔ ہماری گفت گو ہمارے ماحول، تعلقات، حتیٰ کہ ہماری آخرت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ اگر ہم روزانہ زبان کے استعمال کا محاسبہ کریں، تو ہم بہت سی اخلاقی کم زوریوں سے بچ سکتے ہیں۔ اس عمل سے دل صاف ہوتا ہے، رویوں میں بہتری آتی ہے، اور کردار نکھرتا ہے۔ زبان کا احتساب ایک مسلسل تربیت ہے جو ہمیں جھگڑوں، فتنے اور بدگمانیوں سے بچا سکتی ہے۔ اگر ہم اپنی زبان پر قابو پالیں تو بہت سی برائیاں خود بہ خود ختم ہو جائیں گی۔

زبان کی حفاظت: عملی تجاویز

بولنے سے پہلے سوچیں: کیا یہ بات مفید اور ضروری ہے؟

جہاں خاموشی بہتر ہو، وہاں زبان بند رکھیں۔

روزانہ اپنی گفت گو کا جائزہ لیں۔

اپنی زبان کو ذکر، دعا، اور قرآن خوانی کا عادی بنائیں۔

گفت گو میں سچائی، نرمی اور خیر خواہی کو اختیار کریں۔

سوشل میڈیا پر بھی ادب، وقار اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

دوسروں کے جذبات، مقام اور عزت کا خیال رکھیں۔

اگر تنقید کریں تو نرم انداز اور اصلاحی لہجے میں کریں۔

مذاق اور طنز میں حد سے تجاوز نہ کریں۔

دوسروں کو خوش کرنے والی بات کو نیکی سمجھ کر اپنائیں۔

خلاصۂ کلام

زبان کی حفاظت انسان کی شخصیت، معاشرت اور آخرت تینوں میں کام یابی کی ضمانت ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ زبان کا ہر لفظ اہمیت رکھتا ہے، اور اس کا اچھا یا برا استعمال ہمارے اعمال نامے میں درج ہو رہا ہوتا ہے۔ نرم لہجہ، سچائی، ادب اور خیر خواہی سے بھرپور گفت گو انسان کو دلوں کا محبوب بناتی ہے، جب کہ بدزبانی، سختی، اور جھوٹ انسان کو دوسروں کی نظروں سے گرا دیتی ہے۔ ایک مؤمن کی زبان محبت، علم اور خیر کی نمائندہ ہونی چاہیے، نہ کہ نفرت، شر، اور فتنہ کی علامت۔ زبان کا درست استعمال ہماری دنیا کو خوب صورت اور آخرت کو کام یاب بنا سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور خیر خواہی زبان کی حفاظت نہیں بلکہ ا سوشل میڈیا اپنی زبان انسان کی انسان کو کا ذریعہ یہی زبان ا پ ﷺ کی سکتی ہے زبان کا کرتا ہے دیتی ہے ہوتی ہے ہوتا ہے کہ زبان زبان کے سکتا ہے جائے تو اگر ہم

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف