سردیوں میں جسم کو طاقت اور حرارت دینے والی قدرتی غذائیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سردیاں شروع ہوتے ہی انسانی جسم کی غذائی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ کم درجہ حرارت کے باعث جسم کو نہ صرف حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے بلکہ ایسی غذاؤں کی بھی ضرورت پڑتی ہے جو قوتِ مدافعت کو مضبوط رکھیں اور موسم کے اثرات سے محفوظ رکھ سکیں۔
ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں خوراک کا درست انتخاب جسمانی صحت، موسمی بیماریوں سے تحفظ اور روزمرہ توانائی کے توازن کے لیے نہایت اہم ہے۔
ٹھنڈے موسم میں سب سے زیادہ فائدہ مند غذاؤں میں خشک میوہ جات سرفہرست ہیں۔ بادام، اخروٹ، کاجو اور مونگ پھلی جسم کو اندرونی طور پر گرم رکھنے کی خصوصیات رکھتے ہیں۔ ان میں موجود صحت مند چکنائیاں، وٹامن ای اور بھرپور پروٹین نہ صرف توانائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ دماغی کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق روزانہ تھوڑی مقدار میں میوہ جات کا استعمال جسم کی اضافی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں بہترین ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح سردیوں میں آنے والی موسمی سبزیاں بھی خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ پالک، میتھی، شلجم، گاجر اور دیگر ہری سبزیاں وٹامن اے، وٹامن سی، آئرن اور دیگر ضروری غذائی اجزا سے مالا مال ہوتی ہیں۔
گاجر کا استعمال بینائی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جب کہ پالک اور میتھی خون کی کمی دور کرنے اور جسم کو متوازن رکھنے میں معاون ہیں۔ یہ سبزیاں جسم کو بیماریوں سے بچانے کے لیے قدرتی دفاع مضبوط کرتی ہیں۔
ٹھنڈ کے موسم میں انڈے نہ صرف بہترین ناشتہ سمجھے جاتے ہیں بلکہ سردی کے خلاف ایک طاقتور غذائی ہتھیار بھی ہیں۔ انڈوں میں موجود وٹامن ڈی، بی کمپلیکس، پروٹین اور منرلز جسم کو مضبوط بناتے ہیں، مدافعتی نظام کو بہتر کرتے ہیں اور موسم سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں انڈوں کا باقاعدہ استعمال مجموعی قوت میں واضح اضافہ کرتا ہے۔
سرد موسم کا ذکر سوپ کے بغیر نامکمل رہتا ہے۔ چکن سوپ ہو، ٹماٹر، یا سبزیوں سے تیار کردہ سوپ، یہ نہ صرف جسم کو فوری گرمائش فراہم کرتے ہیں بلکہ گلے، سینے اور سانس کے مسائل سے بچانے کے لیے بھی بہترین ہیں۔
سوپ ہلکی غذا کے طور پر معدے کے لیے آسان جبکہ موسم سرما کی تھکن دور کرنے کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین مزید تجویز کرتے ہیں کہ سردیوں میں شہد، ادرک اور دارچینی کا استعمال بڑھایا جائے۔ ادرک والی چائے، شہد کے ساتھ گرم پانی یا دارچینی والا دودھ جسم میں قدرتی حرارت پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی گلے کی خراش، نزلہ، زکام اور موسمی الرجی جیسے مسائل سے بچاؤ میں بھی مؤثر رہتا ہے۔ یہ قدرتی اجزا جسم کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ہاضمے کو بھی بہتر کرتے ہیں۔
اگرچہ سردیوں میں پیاس کم لگتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق جسم کو پانی کی اتنی ہی ضرورت رہتی ہے جتنی گرم موسم میں۔ مناسب مقدار میں پانی پینا جسم کی نمی، خون کی روانی، جلد کی صحت اور مجموعی ہائیڈریشن کے لیے ضروری ہے۔ پانی کی کمی سرد موسم میں بھی تھکاوٹ، خشکی، سر درد اور کمزوری جیسے مسائل پیدا کرسکتی ہے، اس لیے باقاعدگی سے پانی پینا انتہائی ضروری ہے۔
سردیوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اگر انسان میوہ جات، سبزیاں، انڈے، سوپ اور قدرتی گرم اجزا کو اپنی روزمرہ خوراک میں شامل کرلے تو نہ صرف جسمانی توانائی برقرار رہتی ہے بلکہ موسم کے اثرات بھی کم سے کم محسوس ہوتے ہیں۔ خوراک کا یہ سادہ مگر مؤثر انتخاب موسم سرما کو صحت مند، خوشگوار اور متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سردیوں میں کرتے ہیں جسم کو کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔