Express News:
2026-06-03@04:59:47 GMT

ظلم نہیں عدل و انصاف کی جہاں گیری

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ انصاف، مساوات اور امن و عدل کے بغیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ ظلم ایک ایسی زہریلی آگ ہے جو نہ صرف افراد کے دلوں کو جلا دیتی ہے بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جنھوں نے عدل و انصاف کو اپنا شعار بنایا، ترقی و خوش حالی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ گئیں، اور وہ قومیں جنھوں نے ظلم، ناانصافی اور جبر کو اپنی روش بنا لیا، بالآخر ذلت و تباہی کا شکار ہوگئیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو سراسر عدل، رحمت اور انسانیت کا علم بردار ہے۔

اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر عدل کی تاکید کی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، مفہوم:

’’بے شک! اﷲ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل)

یہ آیت اسلامی معاشرتی نظام کی بنیاد ہے۔ عدل صرف عدالتوں یا حکم رانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد کی زندگی کا اصول ہے۔ کسی کی حق تلفی، جھوٹا الزام، ناپ تول میں کمی، یا کسی کم زور پر طاقت کے زور سے دباؤ ڈالنا، یہ سب ظلم کی صورتیں ہیں جنھیں اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ظلم سے بچو، کیوں کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری) اس ارشادِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم نہ صرف دنیا میں فساد و تباہی لاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت وبال کا باعث بنے گا۔

ظلم کی مختلف صورتیں:

ظلم محض کسی کو جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کی کئی صورتیں ہیں۔

معاشی ظلم: جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، مزدور کا حق دبایا جائے، یا زکوٰۃ و صدقات کے نظام کو نظر انداز کیا جائے تو یہ ظلم کی ایک بڑی شکل ہے۔

سماجی ظلم: ذات پات، نسل، رنگ یا زبان کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنا، خواتین یا اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنا بھی ظلم ہے۔

سیاسی ظلم: جب حکم ران اپنی طاقت کو عوام کے مفاد کے بہ جائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں، قانون کو کم زور کے خلاف اور طاقت ور کے حق میں موڑ دیں، تو یہ بدترین ظلم ہے۔

روحانی ظلم: جب انسان اپنے خالق کی بندگی چھوڑ کر گناہوں، بدعات یا الحاد میں مبتلا ہو جائے، تو یہ بھی ظلم کی انتہا ہے، کیوں کہ قرآن کے مطابق: ’’شرک ظلم عظیم ہے۔‘‘

ظلم کے معاشرتی اثرات

ظلم ایک معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب کسی قوم میں انصاف ختم ہو جاتا ہے تو وہاں اعتماد، محبت اور بھائی چارہ مٹ جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں، اور نظامِ زندگی بکھر کر رہ جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روم، فارس، اور اندلس جیسی طاقت ور سلطنتیں ظلم و ناانصافی کے سبب ہی زوال پذیر ہوئیں۔

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا فرمان ہے

’’ریاست کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔‘‘

یہ جملہ اسلامی سیاسی فکر کی اساس ہے۔ ایک معاشرہ اگر عدل پر قائم ہو، تو چاہے اس کے لوگ اخلاقی طور پر کم زور کیوں نہ ہوں، وہ کچھ نہ کچھ دیر تک باقی رہتا ہے، لیکن جہاں ظلم رائج ہو وہاں تباہی لازم ہے۔

اسلامی معاشرت کا اصول، عدل و احسان

اسلام نے ایک متوازن معاشرہ قائم کرنے کے لیے عدل کے ساتھ احسان کا بھی حکم دیا۔ عدل کا مطلب ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے، اور احسان کا مطلب ہے کہ اس سے بڑھ کر بھلائی کی جائے۔ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہو تو معاشرہ اس کا مداوا کرے، اور اگر کسی کے ساتھ ظلم ہُوا ہو تو ریاست اور فراہمی انصاف کے ادارے اس کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

قرآن میں ارشاد ہے، مفہوم: ’’اور ظالموں کی طرف جھکاؤ مت رکھو، ورنہ تمہیں آگ چُھو لے گی۔‘‘ (ہود) یہ آیت نہایت واضح پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔ معاشرے میں ظلم اس وقت بڑھتا ہے جب لوگ اسے روکنے کے بہ جائے برداشت کرنے لگتے ہیں۔

اسلام صرف انفرادی عبادت کا نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا بھی دین ہے۔ جب کوئی شخص ظلم کرتا ہے، تو اگر باقی لوگ خاموش رہیں، تو وہ بھی اس ظلم میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’اگر تم کسی ظالم کو ظلم کرتے دیکھو اور اس کا ہاتھ نہ روکو تو اﷲ تم سب کو ایک عذاب میں مبتلا کر دے گا۔‘‘ (ترمذی)

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا تصور دیا گیا ہے۔ اگر یہ جذبہ ختم ہو جائے تو ظلم خود بہ خود عام ہو جاتا ہے۔

آج کی دنیا میں ظلم کی صورتیں پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ طاقت ور طبقات نے قانون، ذرائع نشر و اشاعت اور معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے، عام آدمی کے لیے انصاف حاصل کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ممالک میں طاقت ور حکم ران اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے ظلم و جبر کا سہارا لیتے ہیں۔ کارپوریٹ نظام میں غریب مزدور کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، جب کہ چند لوگ اربوں روپے کما لیتے ہیں۔ نشر و اشاعت کے ادارے سچائی کے بہ جائے مفادات کی زبان بولتے ہیں، جو ظلم کی ایک نئی شکل ہے۔ خواتین، اقلیتیں اور نادار طبقات آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اسلامی معاشرہ ان سب ناانصافیوں کے خلاف کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ عدل و انصاف قائم کرنے کے قرآنی اصول قرآن مجید نے عدل کے قیام کے لیے چند بنیادی اصول بیان کیے ہیں: مفہوم: ’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے بنو، اﷲ کی خاطر گواہی دو، اگرچہ اپنے آپ یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء)

حکومت کی ذمہ داری

مفہوم: ’’بے شک! اﷲ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل سے کرو۔‘‘ (النساء)

طاقت ور اور کم زور کے درمیان مساوات

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔‘‘ (بخاری) یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔

ظلم کے خاتمے کے لیے صرف باتیں کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔

تعلیم اور شعور کی بیداری سب سے پہلا قدم ہے۔ جب لوگ اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق پہچانیں گے تو ظلم کم ہوگا۔ عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کسی مظلوم کو انصاف کے لیے سال ہا سال انتظار نہ کرنا پڑے۔ علماء، ادیبوں، سماجی و سیاسی راہ نماؤں، دانش ور اور صحافیوں کو سچ بولنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف اور دیانت کو اپنانا چاہیے۔ ظلم پر خاموشی بھی جرم ہے۔ جب ہم ظلم کو دیکھ کر چپ رہتے ہیں، تو ہم دراصل ظالم کے حامی بن جاتے ہیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کی علامت ہے۔

اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ ’’معاشرہ ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتا۔‘‘ ظلم بالآخر تباہی ہی لاتا ہے۔ عدل و انصاف پر قائم معاشرہ ہی پائیدار ہوتا ہے، جہاں ہر شخص کو برابری، احترام اور امن میسر ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنے، تو ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔ عدل و احسان کا نظام قائم کرنا ہی اسلام کی روح ہے، اور یہی کام یابی کا راستہ ہے۔ مفہوم: ’’اے ایمان والو! اﷲ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اور عدل کی گواہی دو۔‘‘ (المائدہ) اسلام نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی دعوت دی ہے جو عدل، رحم، اور برابری پر قائم ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کے اصولوں کو اپنالیں تو نہ صرف ظلم ختم ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدل و انصاف احسان کا جاتا ہے کے خلاف کے ساتھ ظلم کے کے لیے ظلم کی

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا