Express News:
2026-07-24@01:21:31 GMT

ظلم نہیں عدل و انصاف کی جہاں گیری

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

دنیا کا کوئی بھی معاشرہ انصاف، مساوات اور امن و عدل کے بغیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ ظلم ایک ایسی زہریلی آگ ہے جو نہ صرف افراد کے دلوں کو جلا دیتی ہے بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جنھوں نے عدل و انصاف کو اپنا شعار بنایا، ترقی و خوش حالی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ گئیں، اور وہ قومیں جنھوں نے ظلم، ناانصافی اور جبر کو اپنی روش بنا لیا، بالآخر ذلت و تباہی کا شکار ہوگئیں۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو سراسر عدل، رحمت اور انسانیت کا علم بردار ہے۔

اسلام میں عدل و انصاف کی اہمیت

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر عدل کی تاکید کی گئی ہے۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، مفہوم:

’’بے شک! اﷲ تعالیٰ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘ (النحل)

یہ آیت اسلامی معاشرتی نظام کی بنیاد ہے۔ عدل صرف عدالتوں یا حکم رانوں تک محدود نہیں بلکہ ہر فرد کی زندگی کا اصول ہے۔ کسی کی حق تلفی، جھوٹا الزام، ناپ تول میں کمی، یا کسی کم زور پر طاقت کے زور سے دباؤ ڈالنا، یہ سب ظلم کی صورتیں ہیں جنھیں اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’ظلم سے بچو، کیوں کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں ظاہر ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری) اس ارشادِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ ظلم نہ صرف دنیا میں فساد و تباہی لاتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سخت وبال کا باعث بنے گا۔

ظلم کی مختلف صورتیں:

ظلم محض کسی کو جسمانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کی کئی صورتیں ہیں۔

معاشی ظلم: جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے، مزدور کا حق دبایا جائے، یا زکوٰۃ و صدقات کے نظام کو نظر انداز کیا جائے تو یہ ظلم کی ایک بڑی شکل ہے۔

سماجی ظلم: ذات پات، نسل، رنگ یا زبان کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنا، خواتین یا اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرنا بھی ظلم ہے۔

سیاسی ظلم: جب حکم ران اپنی طاقت کو عوام کے مفاد کے بہ جائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں، قانون کو کم زور کے خلاف اور طاقت ور کے حق میں موڑ دیں، تو یہ بدترین ظلم ہے۔

روحانی ظلم: جب انسان اپنے خالق کی بندگی چھوڑ کر گناہوں، بدعات یا الحاد میں مبتلا ہو جائے، تو یہ بھی ظلم کی انتہا ہے، کیوں کہ قرآن کے مطابق: ’’شرک ظلم عظیم ہے۔‘‘

ظلم کے معاشرتی اثرات

ظلم ایک معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب کسی قوم میں انصاف ختم ہو جاتا ہے تو وہاں اعتماد، محبت اور بھائی چارہ مٹ جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں، اور نظامِ زندگی بکھر کر رہ جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روم، فارس، اور اندلس جیسی طاقت ور سلطنتیں ظلم و ناانصافی کے سبب ہی زوال پذیر ہوئیں۔

حضرت علی کرم اﷲ وجہہ کا فرمان ہے

’’ریاست کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔‘‘

یہ جملہ اسلامی سیاسی فکر کی اساس ہے۔ ایک معاشرہ اگر عدل پر قائم ہو، تو چاہے اس کے لوگ اخلاقی طور پر کم زور کیوں نہ ہوں، وہ کچھ نہ کچھ دیر تک باقی رہتا ہے، لیکن جہاں ظلم رائج ہو وہاں تباہی لازم ہے۔

اسلامی معاشرت کا اصول، عدل و احسان

اسلام نے ایک متوازن معاشرہ قائم کرنے کے لیے عدل کے ساتھ احسان کا بھی حکم دیا۔ عدل کا مطلب ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے، اور احسان کا مطلب ہے کہ اس سے بڑھ کر بھلائی کی جائے۔ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہو تو معاشرہ اس کا مداوا کرے، اور اگر کسی کے ساتھ ظلم ہُوا ہو تو ریاست اور فراہمی انصاف کے ادارے اس کے دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

قرآن میں ارشاد ہے، مفہوم: ’’اور ظالموں کی طرف جھکاؤ مت رکھو، ورنہ تمہیں آگ چُھو لے گی۔‘‘ (ہود) یہ آیت نہایت واضح پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔ معاشرے میں ظلم اس وقت بڑھتا ہے جب لوگ اسے روکنے کے بہ جائے برداشت کرنے لگتے ہیں۔

اسلام صرف انفرادی عبادت کا نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کا بھی دین ہے۔ جب کوئی شخص ظلم کرتا ہے، تو اگر باقی لوگ خاموش رہیں، تو وہ بھی اس ظلم میں شریک سمجھے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’اگر تم کسی ظالم کو ظلم کرتے دیکھو اور اس کا ہاتھ نہ روکو تو اﷲ تم سب کو ایک عذاب میں مبتلا کر دے گا۔‘‘ (ترمذی)

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا تصور دیا گیا ہے۔ اگر یہ جذبہ ختم ہو جائے تو ظلم خود بہ خود عام ہو جاتا ہے۔

آج کی دنیا میں ظلم کی صورتیں پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ طاقت ور طبقات نے قانون، ذرائع نشر و اشاعت اور معیشت پر قبضہ کر رکھا ہے، عام آدمی کے لیے انصاف حاصل کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ ممالک میں طاقت ور حکم ران اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے ظلم و جبر کا سہارا لیتے ہیں۔ کارپوریٹ نظام میں غریب مزدور کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، جب کہ چند لوگ اربوں روپے کما لیتے ہیں۔ نشر و اشاعت کے ادارے سچائی کے بہ جائے مفادات کی زبان بولتے ہیں، جو ظلم کی ایک نئی شکل ہے۔ خواتین، اقلیتیں اور نادار طبقات آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اسلامی معاشرہ ان سب ناانصافیوں کے خلاف کھڑا ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ عدل و انصاف قائم کرنے کے قرآنی اصول قرآن مجید نے عدل کے قیام کے لیے چند بنیادی اصول بیان کیے ہیں: مفہوم: ’’اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے بنو، اﷲ کی خاطر گواہی دو، اگرچہ اپنے آپ یا والدین یا رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (النساء)

حکومت کی ذمہ داری

مفہوم: ’’بے شک! اﷲ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل سے کرو۔‘‘ (النساء)

طاقت ور اور کم زور کے درمیان مساوات

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ’’اگر فاطمہ بنت محمدؐ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔‘‘ (بخاری) یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔

ظلم کے خاتمے کے لیے صرف باتیں کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات ضروری ہیں۔

تعلیم اور شعور کی بیداری سب سے پہلا قدم ہے۔ جب لوگ اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق پہچانیں گے تو ظلم کم ہوگا۔ عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ کسی مظلوم کو انصاف کے لیے سال ہا سال انتظار نہ کرنا پڑے۔ علماء، ادیبوں، سماجی و سیاسی راہ نماؤں، دانش ور اور صحافیوں کو سچ بولنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف اور دیانت کو اپنانا چاہیے۔ ظلم پر خاموشی بھی جرم ہے۔ جب ہم ظلم کو دیکھ کر چپ رہتے ہیں، تو ہم دراصل ظالم کے حامی بن جاتے ہیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ایمان کی علامت ہے۔

اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ ’’معاشرہ ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتا۔‘‘ ظلم بالآخر تباہی ہی لاتا ہے۔ عدل و انصاف پر قائم معاشرہ ہی پائیدار ہوتا ہے، جہاں ہر شخص کو برابری، احترام اور امن میسر ہو۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بنے، تو ہمیں ظلم کے خلاف کھڑے ہونا ہوگا۔ عدل و احسان کا نظام قائم کرنا ہی اسلام کی روح ہے، اور یہی کام یابی کا راستہ ہے۔ مفہوم: ’’اے ایمان والو! اﷲ کے لیے انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اور عدل کی گواہی دو۔‘‘ (المائدہ) اسلام نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی دعوت دی ہے جو عدل، رحم، اور برابری پر قائم ہو۔ اگر ہم قرآن و سنت کے اصولوں کو اپنالیں تو نہ صرف ظلم ختم ہو سکتا ہے بلکہ دنیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عدل و انصاف احسان کا جاتا ہے کے خلاف کے ساتھ ظلم کے کے لیے ظلم کی

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف