Express News:
2026-07-24@15:27:16 GMT

جہاں کسی بڑے کو معافی نہ ملی

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

ریاست کی مضبوطی انصاف، اصول پسندی، احتساب اور خوفِ خدا سے پیدا ہوتی ہے۔ ریاست کی بنیادیں مضبوط کرنے کی بات ہو تو حضرت عمر فاروق ؓ یاد آجاتے ہیں۔ جن کے طرز حکمرانی کی بازگشت آج بھی گونج رہی ہے ۔ وہ زمانہ جس میں حکمرانی تخت و تاج کی آرائش نہیں بلکہ ذمے داری کی حرارت کا نام تھا۔

وہ عہد جس میں رعایا براہِ راست خلیفہ سے سوال کرتی اور خلیفہ جواب دیتا تھا۔ ایسا جواب جو صرف الفاظ کا نہیں بلکہ کردار کا بوجھ اٹھائے ہوتا تھا۔حضرت عمر فاروقؓ کی حکومت ایک ایسی فلاحی سلطنت کی مثال تھی جس میں حکمران اپنے آپ کو رعایا کا امین سمجھتا تھا اور امانت کے تصور میں کسی قسم کی لغزش ناقابلِ معافی جرم شمار ہوتی تھی۔ عمرؓ کے عہد میں قانون کی حکمرانی محض دستوری جملہ نہ تھی بلکہ عملی زندگی کی نبض میں دوڑتی ہوئی روح تھی۔

اس قانون کی شان یہ تھی کہ قبیلے کی بڑائی، منصب کی بلندی یا نسل و نسب کی عظمت اس کے سامنے ریزہ ریزہ ہو کر گرتی تھی۔ سب سے بڑی مثال مکہ کی وہ گلیاں ہیں جہاں ایک دن گورنر کے بیٹے کو سزا دی گئی۔ وہ گورنر جس کے رتبے کے سامنے عام لوگ جھک جایا کرتے تھے مگر خلیفہ وقت کے نزدیک وہ بھی رعایا کے برابر تھے۔ اس واقعے نے بتا دیا کہ اسلامی ریاست میں کسی کا مقام جرم کے وزن کو کم نہیں کرتا اور نہ رشتے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

یہی اصول تاریخ کے ایک اور صفحے پر اُس وقت رقم ہوا جب مصر کے گورنر کے بیٹے نے ایک قبطی شہری پر ظلم کیا اور وہ شہری انصاف کی طلب میں مدینہ پہنچا۔ حضرت عمرؓ نے نہ گورنر کا عہدہ دیکھا نہ اس کے بیٹے کا مقام ۔ انھوں نے قبطی کے ہاتھ میں کوڑا تھمایا اور ظلم کرنے والے پر برسانے کا حکم دے کر فرمایا کہ تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جب کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔

شاید یہی وہ لمحہ تھا جب دنیا کو پہلی بار سمجھ آیا کہ عدل ریاستوں کو فتح کرتا ہے تلواریں نہیں۔عدل کا یہ معیار رشتہ داریوں اور شخصیات کے طلسم سے بھی آزاد تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ہی بیٹے پر قصاص کا حکم لگا کر دنیا کو بتایا کہ باپ کا رتبہ مسلمان کی جان کے سامنے کچھ نہیںہے۔ اگرچہ صحابہؓ کی مشاورت سے فیصلہ مؤخر ہوامگر اصول وہیں قائم رہا۔ کوئی شخص خواہ خلیفہ کا جگرگوشہ ہو قانون کی حدود سے ہر گزباہر نہیںتھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی بھی اسی اصولی روشنی کا مینار ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے یہ خواہش نہیں تھی جو بادشاہوں میں ہوتی ہے کہ طاقت ور جرنیلوں کو راستے سے ہٹا دیا جائے بلکہ یہ ایک لطیف مگر مضبوط اصول تھا کہ ریاست ایک فرد کی کامیابیوں کی مرہونِ منت نہیں ہونی چاہیے ۔ یہی اصول حکمران کے اندر عدل کی وہ حرارت جگا سکتا ہے جس سے ریاستیں صدیوں تک روشن رہتی ہیں۔

جس ریاست میں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہو، اپنے آپ کو رعایا کا خادم سمجھتا ہو، یہ ریاست مدینہ تھی ۔ قحط کے دنوں میں جب بچے بھوک سے بلبلاتے تھے، عمرؓ نے بھی روٹی اورگوشت چھوڑ دیا، وہ کہتے تھے کہ رعایا بھوکی ہو اور میں پیٹ بھر کر سو جاؤں، یہ انصاف نہیں۔ ایک رات ایک عورت کی ہانڈی میں پتھر ابلتے دیکھے تو ساری رات نیند نہ آئی۔

بیت المال سے آٹا اٹھایا مگر خادم سے کہا کہ بوری خود اٹھاؤں گا، قیامت کے دن جواب بھی تو مجھے ہی دینا ہے۔یہ وہ حکمرانی تھی جس میں طاقت کا مرکز قصرِ خلافت نہیں بلکہ عوام کا دکھ تھا۔حضرت عمرؓ نے گورنروں کا جو احتساب قائم کیا وہ دنیا کے بڑے سیاسی نظاموں کے لیے آج بھی ایک معمہ ہے۔ گورنروں کو حکم تھا کہ تحفے قبول نہ کریں، محل نہ بنائیں، عوام سے فاصلہ نہ رکھیں اور اگر کسی شکایت کی بو بھی آئے تو خلیفہ خود تحقیق فرماتے۔ گورنروں کے اثاثوں کا حساب رکھا جاتا، انھیں تنبیہ کی جاتی کہ منصب عبادت کی طرح پاکیزہ ہونا چاہیے۔

اس احتساب نے ریاست کی جڑوں کو اتنا مضبوط کیا کہ فتوحات کے باوجود کہیں بھی بدعنوانی کی جرات پیدا نہ ہو سکی۔ریاستی فیصلوں میں مشاورت کی روش بھی حضرت عمرؓ کا امتیازی وصف تھی۔ وہ اہل الرائے صحابہؓ کو جمع کرتے، ان کی رائے سنتے ۔ حکمرانی کے اسی اصول نے اسلامی ریاست کے انتظام کو نہ صرف وسعت دی بلکہ استحکام بھی عطا کیا۔

معاشرتی، انتظامی اور اقتصادی عدل کا یہ امتزاج اس دور کو ایسا نمونہ بناتا ہے جس میں حکمران اور رعایا ایک ہی قانون کے تابع تھے۔

یہ سب واقعات اس بات کی گواہی ہیں کہ حضرت عمرؓ کا عہد صرف تاریخ کا روشن باب نہیں بلکہ حکمرانوں کے لیے ایک آئینہ ہے ۔ عمرؓ نے ثابت کیا کہ ریاستیں افراد کے دم سے نہیں، اصولوں کے دم سے بنتی ہیں اور وہ اصول اگر عدل اور خوفِ خدا پر قائم ہوں تو زمانے کی گرد انھیں مٹا نہیں سکتی۔جہاں کسی بڑے کو معافی نہ ملے جہاں قانون کو ذات پر مقدم اور عدل کو تعصب سے پاک رکھا جائے ۔ عوام کو اپنی ذمے داری سمجھے تو شاید انسانیت پر انصاف کا وہی سورج دوبارہ طلوع ہو جائے جو کبھی مدینہ کی فضا میں دمکتا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے سامنے

پڑھیں:

نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟

فرحت اشتیاق کے مقبول ناول ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پر مبنی پاکستان کی پہلی نیٹفلکس اوریجنل سیریز کی ریلیز سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ پہلی بار 2009 میں خواتین ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا تھا، جس کے بعد 2013 میں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس پر مبنی نئی سیریز کو 2026 کے اختتام تک نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

اگرچہ اس سے قبل کئی کامیاب پاکستانی ڈرامے ٹی وی پر نشر ہونے کے بعد نیٹ فلکس پر دستیاب کیے جا چکے ہیں، تاہم ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ہو گی، جسے ہم ٹی وی اور نیٹ فلکس کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

سیریز کی کاسٹ میں ماہرہ خان، فواد خان، بلال اشرف، حمزہ علی عباسی، ہانیہ عامر، اقرا عزیز، صنم سعید، احد رضا میر، نادیہ خان اور دیگر معروف فنکار شامل ہیں، جبکہ اس کی ہدایت کاری اور پروڈکشن مومنہ درید نے کی ہے۔

یہ سیریز ابتدائی طور پر 2025 میں ریلیز ہونا تھی، تاہم مقررہ وقت پر اس کی نمائش نہ ہو سکی۔ اس کے بعد طویل عرصے تک نہ کاسٹ اور نہ ہی پروڈیوسرز کی جانب سے کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ سامنے آئی، جس کے باعث یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ شاید منصوبہ ملتوی یا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اب تازہ اطلاعات کے مطابق مومنہ درید اس وقت سیریز کی فائنل ایڈیٹنگ کی نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں کاسٹ اس کی تشہیری مہم کا آغاز بھی کرے گی۔

دوسری جانب، کئی سال کی تاخیر کے باعث پاکستانی ناظرین اب بھی ریلیز کی خبروں پر مکمل یقین کرنے کو تیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک مداح نے لکھا، ’’جب تک اقساط ریلیز نہیں ہوتیں، میں یقین نہیں کروں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’مجھے اب بھی اس خبر پر اعتماد نہیں۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس