ماتلی، قدیم جنرل بس اسٹینڈ نئے تنازع کی زد میں آگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (نمائندہ جسارت)ماتلی کا 41 سال پرانا جنرل بس اسٹینڈ ایک نئے تنازعے کی زد میں آگیا ہے، اور باخبر ذرائع کے مطابق اس اہم عوامی اثاثے کو منتقل کرنے کی تیاریاں خاموشی سے جاری ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کے دو بااثر گروہ پسِ پردہ اس اسٹینڈ کی منتقلی اور اس کے بعد زمین کے کمرشل استعمال کے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔پس منظر: عوامی اثاثہ کیسے حاصل ہوا تھا؟1984ء میں سابق بلدیاتی قیادت نے میونسپلٹی کی تین دکانیں فروخت کر کے ڈیڑھ ایکڑ اراضی خریدی جس پر موجودہ جنرل بس اسٹینڈ تعمیر کیا گیا۔ اْس وقت اس مقام کو شہری ضروریات اور ٹرانسپورٹ کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق: ڈرائنگ روم بیٹھکوں میں مستقبل کے فیصلے تیار تحقیقی مواد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو بااثر شخصیات اور ان کے گروہ اپنے ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر اسٹینڈ کی منتقلی کے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقصد ’’بہتری‘‘ نہیں بلکہ ’’بہتر موقع‘‘ ہے—یعنی شہر کے وسط میں واقع اس قیمتی اراضی کو کمرشل بنانے کی راہ ہموار کرنا۔اصل خدشہ: زمین خالی کروا کر کمرشل منصوبہ کھڑا کیا جائے گا۔میونسپل حدود میں سرکاری زمین نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جبکہ کئی ایکڑ اراضی پہلے ہی قبضہ گروہوں کے زیرِ استعمال ہے۔ ایسے میں بس اسٹینڈ کی یہ زمین سرمایہ دار عناصر کے لیے انتہائی پرکشش ثابت ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے وسط میں شاپنگ سینٹرز اور کمرشل پلازہ تعمیر کرنا آج کل منافع بخش کاروبار ہے، اس لیے خدشہ ہے کہ بس اسٹینڈ کی منتقلی کے بعد یہاں بھی اسی نوع کے منصوبے کی راہ ہموار کی جائے گی۔معاشی اثرات: سینکڑوں افراد کے روزگار کو خطرہ موجودہ مقام پر درجنوں دکاندار، ٹھیلے والے، گاڑیوں کے عملے اور دیگر کاروباری افراد اپنی روزی روٹی اس اسٹینڈ سے وابستہ رکھتے ہیں۔اگر اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا توموجودہ علاقہ غیر فعال ہو جائے گادرجنوں کاروبار بند ہو جائیں گے سیکڑوں افراد بے روزگار ہوں گے اس کے برعکس، بس اسٹینڈ جہاں منتقل ہوگا وہاں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی—اور اس کا فائدہ وہی لوگ اٹھائیں گے جن کے پاس نئی جگہ کا زمینی اختیار ہوگا۔ماضی کی مثالیں: وٹنری اسپتال کی طرح ایک اور عوامی سہولت خطرے میں110 سال پرانا وٹنری اسپتال جس طرح خاموشی سے ماتلی سے غائب کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بس اسٹینڈ اسٹینڈ کی کیا گیا
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔