بھتہ خوری کی وارداتوں میں اضافہ متعلقہ محکمے کی ناکامی ہے، سنی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر صاحبزادہ بلال عباس قادری نے کہا ہے کہ شہر میں بھتہ خوری کی بڑھتی ہوئی وارداتیں نہ صرف شہریوں میں شدید بے چینی اور خوف و ہراس پھیلا رہی ہیں بلکہ یہ متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا کھلا ثبوت بھی ہیں۔روزانہ کی بنیاد پر تاجروں، دکانداروں اور کاروباری شخصیات کو دھمکی آمیز کالیں موصول ہونا انتہائی تشویشناک ہے اور اس صورتحال نے شہر کی معاشی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔اگر ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں صحیح معنوں میں ادا کرتے تو آج شہری جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر نہ ہوتے۔یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ شہر میں منظم جرائم پیشہ گروہ کس طرح سرگرم ہیں اور انہیں کون سی قوتیں تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔بھتہ خوروں کے خلاف مثر اور نتیجہ خیز کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے، ورنہ عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔بلال عباس قادری کا مزید کہنا تھا کہ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریوں سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔بھتہ خوری کے شکار شہری حکومتی دفاتر کے چکر کاٹتے رہتے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔شہر میں فوری طور پر خصوصی آپریشن کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے نیٹ ورک کو توڑا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔پاکستان سنی تحریک عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے متعلقہ محکموں کو خبردار کیا کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو عوامی احتجاج کا لائحہ عمل بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔شہریوں کی سلامتی،کاروباری طبقے کا تحفظ اور امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے،ورنہ انتظامی کمزوریاں مزید سنگین نتائج کو جنم دیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔