جی 20 سربراہان اجلاس: امریکی بائیکاٹ کے باوجود متفقہ اعلامیے کا مسودہ تیار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
جنوبی افریقہ کے G20 اجلاس میں عالمی طاقتوں نے امریکی بائیکاٹ کے باوجود ایک متفقہ مسودہ اعلامیہ تیار کر لیا ہے۔ یہ اعلامیہ اقتصادی تعاون، عالمی ترقیاتی منصوبوں، اور ماحولیاتی مسائل پر مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی حکومت نے اجلاس میں حصہ نہیں لیا، جس سے عالمی سطح پر اجلاس کی اہمیت اور دباؤ میں اضافہ ہوا۔ دیگر بڑی معیشتوں نے اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کیا تاکہ اقتصادی اور ماحولیاتی تعاون جاری رہ سکے۔
مزید پڑھیں: روس امریکہ کشیدگی: جی 20 اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہوسکا
یہ اقدام دنیا کے 20 اہم معیشتوں کے اتحاد اور ملّی تعاون کے لیے ایک اہم پیغام ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلامیہ مستقبل کے بین الاقوامی مذاکرات میں بنیادی حوالہ بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جی 20 (G20) 1999 میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان غیر رسمی اقتصادی فورم کے طور پر قائم ہوا۔ اس کا مقصد عالمی مالیاتی استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اس میں اصل میں 19 ممالک اور یورپی یونین شامل تھے، جبکہ 2023 سے افریقی یونین بھی رکن بن گئی ہے۔ یہ ممالک عالمی GDP کا قریباً 85 فیصد اور دنیا کی دو تہائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں پہلی مرتبہ جی 20 سمٹ کا انعقاد شہریوں کو مہنگا پڑ گیا
G20 نے عالمی شہرت 2008 کے اقتصادی بحران کے بعد حاصل کی، جب G7 ممالک دنیا بھر کے مالی مسائل کو تنہا حل نہیں کر سکے۔ سال بھر کے اجلاسوں کے بعد رہنما سالانہ سربراہی اجلاس میں مل کر اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور غیر پابند رہنما اعلامیہ جاری کرتے ہیں۔
2025 کا G20 اجلاس جنوبی افریقہ کے جوہانسبورگ میں Nasrec Expo Centre میں 22 نومبر سے 2 روزہ ہوگا۔ جنوبی افریقہ نومبر 2024 سے صدرات سنبھالے ہوئے ہے اور 30 نومبر 2025 کو اسے امریکا کو منتقل کرے گا۔ یہ اجلاس دنیا کی بڑی معیشتوں کو اہم عالمی چیلنجز پر بات چیت اور تعاون کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Nasrec Expo Centre جنوبی افریقہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔