روس نے یوکرین سے جنگ بندی کیلئے ٹرمپ کے امن منصوبےکی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی دستاویز میں کچھ ایسی شقیں شامل ہیں، جن پر بات چیت کی جا سکتی ہے، پیوٹن نے ولادیمیر زیلنسکی کو پیغام دیا کہ امریکا کا یہ 28 نکاتی امن منصوبہ یوکرین کے لیے حتمی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین سے جنگ بندی کے لیے امریکی امن منصوبے کی حمایت کردی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے تصدیق کی کہ اس منصوبے میں روس کے کئی اہم مطالبات کو شامل کیا گیا ہے/ پیوٹن نے خبردار کیا کہ یوکرین کی جانب سے معاہدے کو مسترد کیے جانے کی صورت میں وہ مزید علاقوں پر قبضہ کرسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جیسے حال ہی میں یوکرین کے علاقے کیپیانسک پر قبضہ ہوا، ایسا دیگر اہم علاقوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکی دستاویز میں کچھ ایسی شقیں شامل ہیں، جن پر بات چیت کی جا سکتی ہے، پیوٹن نے ولادیمیر زیلنسکی کو پیغام دیا کہ امریکا کا یہ 28 نکاتی امن منصوبہ یوکرین کے لیے حتمی امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے جمعرات تک کا وقت دیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے صدر ٹرمپ کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن اس حالیہ پیشرفت پر اپنے ساتھیوں سے مشورے شروع کر دیئے ہیں۔ قبل ازیں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین کو اپنی تاریخ کے سب سے مشکل لمحات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ امریکی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکا کو ایک اہم شراکت دار کے طور پر کھونے کا خطرہ ہے۔ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوکرین کے لیے جمعرات تک اس منصوبے کو قبول کرنے کے لیے ایک مناسب ڈیڈ لائن ہے۔ روس نے بھی ابتدا میں امریکی تجویز پر سنجیدگی نہیں دکھائی تھی، تاہم اب بیک ٹو ڈور مذاکرات کے بعد تصویر کا نیا رخ سامنے آیا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کا ہے کہ وہ دنیا کی ایک اور جنگ بھی ختم کرانے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ولادیمیر زیلنسکی صدر ولادیمیر کہ امریکی یوکرین کے پیوٹن نے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔