پاکستان اور انڈونیشیا کی مشترکہ فوجی مشق شاہین اسٹرائیک ٹو اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
سٹی 42 : پاکستان اور انڈونیشیا کی مشترکہ فوجی مشق شاہین اسٹرائیک ٹو اختتام پذیر ہوگئی ۔
مشق 8 سے 19 نومبر تک انسداد دہشت گردی کے ڈومین میں جاری رہی، جس میں پاک فوج اور انڈونیشین آرمی کی کومبیٹ ٹیموں نے بھرپور شرکت کی۔
مشک کے تمام ٹریننگ اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے، جبکہ اس کا اختتامی سیشن 18 نومبر کو منعقد ہوا۔
آئندہ برس مون سون کے نقصانات سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی جائے؛ وزیراعظم
پاکستان کی جانب سے ایک جنرل آفیسر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ انڈونیشیا کی طرف سے سینئر عسکری حکام نے مشق کی نگرانی کی۔
دونوں ممالک کے دستوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور فوجی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنل طریقہ کار کی بہتری مشق کا بنیادی مقصد رہا۔اس کے علاوہ شہری علاقوں میں آپریشنز اور آئی ای ڈیز سے نمٹنے کی تربیت پر خصوصی توجہ دی گئی۔
پنجاب حکومت کا غیر قانونی مقیم افغانیوں کی اطلاع دینے والوں کیلئے نقد انعام کا اعلان
مشق کے انعقاد سے پاک انڈونیشیا عسکری تعاون مزید مضبوط ہوا ۔
سورس : آئی ایس پی آر
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔