پاکستان، انڈونیشین مشترکہ فوجی مشق’ شاہین اسٹرائیک 2‘ اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
راولپنڈی:(نیوزڈیسک) پاک فوج اور انڈونیشین فوج کی مشترکہ مشق’ شاہین اسٹرائیک 2‘ اختتام پذیر ہو گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تمام تربیتی مقاصد کامیابی کے ساتھ حاصل کر لئے گئے،اختتامی تقریب میں پاکستان کی طرف سے جنرل افسرنے بطور مہمانِ خصوصی شرکت اور انڈونیشیا کی جانب سے سینئر عسکری حکام نے نمائندگی کی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج کا پیشہ ورانہ مہارت اور عملی کارکردگی کے اعلیٰ معیار کا مظاہرہ کیا گیا، مشترکہ تربیت دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں استعمال ہونے والی مشقوں، طریقہ کار اور تکنیکوں کو بہتر بنانے کے لیے منعقد کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مشترکہ مشقوں میں خاص طور پر شہری علاقوں میں آپریشنز اور بم ساختہ دھماکہ خیز مواد کے خلاف اقدامات پر زور دیا گیا۔
دوسری جانب ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ شاہین سٹرائیک ٹو نے دونوں دوست ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم عسکری تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔