کابل سے اسلام آباد تک
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایسے حالات میں کہ جب ہر طرف جنگ و جدل کا ماحول بنا ہوا ہو اور آپ کو کچھ سمجھ میں نہ آ رہا ہو کہ باقی دنیا کو چھوڑیں‘ آپ کے اپنے خطے میں کیا ہو رہا ہے یا کیا ہونے والا ہے‘ تو میجر (ر) عامر کے گھر پر ایک غیرمعمولی اکٹھ بہت مفید ثابت ہوئی۔ میجر عامر کا حجرہ کہیں یا گھر‘ اسلام آباد میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ زندگی میں تین چار بندے ایسے دیکھے ہیں جو اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک ان کے ساتھ میز پر آٹھ دس دوست نہ ہوں۔ نوے کی دہائی میں ملتان میں چودھری نیاز صاحب کا ایک شو روم تھا جہاں ان کے بیٹے سعود نیاز کے آٹھ دس دوست جب تک لنچ پر نہ آتے‘ انہیں کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ گھر سے آنے والا کھانا دوستوں کے کھانے کے بعد وہ باپ بیٹا اپنے لیے سامنے ہوٹل سے منگوا کر کھانا کھاتے۔
اسلام آباد آیا تو یہاں ڈاکٹر ظفر الطاف کو دیکھا جن کے دستر خوان پر جب تک دس بارہ لوگ نہ ہوتے وہ نوالہ بھی نہ کھاتے۔ اپنی نگرانی میں روزانہ کھانا اور سْوپ پکواتے اور ایک ایک دوست کی پلیٹ میں سالن ڈالتے۔ خود آخر پر کھانا لیتے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا دوستوں کے جانے کے بعد وہ اپنے لیے انڈا آلو بنوا کر کھاتے کیونکہ پکا ہوا سالن کسی نئے مہمان کے حصے میں چلا جاتا۔ وہ خدا کا شکر کرتے کہ آج اتنے دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا۔ یہ سلسلہ‘ جب تک وہ زندہ رہے‘ میں نے اٹھارہ برس تک ڈاکٹر ظفر الطاف کی میز پر ہر روز دیکھا۔ یاد آیا کہ کسی دوست کے پوچھنے پر ایک بار جواب دیا تھا کہ اگر زندگی دوبارہ ملی اور چوائس دیا گیا کہ ساری عمر صرف ایک دوست کی سہولت ہو گی تو میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ڈاکٹر ظفر الطاف کا نام لوں گا کہ ان جیسا انسان ہو تو ایک ہی دوست کے ساتھ پوری زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ وہ ایک نہیں درجنوں خوبیوں کے مالک تھے اور میں نے زندگی میں جہاں نعیم بھائی‘ رانا اعجاز محمود جیسے دوستوں سے سیکھا وہیں ڈاکٹر ظفر الطاف میں بے پناہ خوبیاں دیکھیں اور کچھ سیکھنے اور عمل کرنے کی کوشش بھی کی۔ یقینا خامیاں بھی ہوں گی لیکن مجھے ان کے اندر خوبیاں ہی خوبیاں نظر آئیں۔ ایک بڑا آدمی‘ ایک بڑے ظرف والا بڑا انسان جس نے ہر اس بندے کو متاثر کیا اور فیض پہنچایا جو اْن کی چھائوں تلے آیا‘ چاہے کچھ دیر ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔
اس طرح بڑے دل اور بڑے دستر خوان کا مالک ارشد شریف کو پایا جس کے دستر خوان پر درجن بھر دوست ہوتے تھے۔ وہ بھی دوستوں پر خرچ کرکے خوش رہتا تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کی وفات کے بعد جو بڑا خلا میری زندگی میں آیا‘ وہ ارشد کی محفلوں کی وجہ سے کچھ کم ہوا لیکن جب ارشد شریف بھی چلا گیا تو اسلام آباد کی شامیں اداس اور تنہا ہو گئیں۔ رہی سہی کسر سینیٹر انور بیگ کی وفات نے پوری کر دی۔ وہ بھی اپنے گھر پر دوستوں کی دعوتوں اور گپ شپ کے لیے پورے شہر میں مشہور تھے۔ اب میجر عامر کا گھر اور وہاں جیسا دستر خوان شاید پورے شہر میں نہ ہو۔ وہ اگر ایک بندے کو بھی مہمان بنا کر بلائیں گے تو کھانا درجن بھر کے لیے تیار ہوگا۔ ان کے ہاں بھی اکیلے کھانے کا رواج نہیں ہے۔ ایک پٹھان کے دستر خوان پر ہر وقت ہجوم رہتا ہے اور ان کا بیٹا عمار اس کام پر مامور ہے کہ سب کو کھانا پیش کرے۔ لیکن اس دفعہ ان کے گھر پر جو محفل جمی وہ حیران کن طور پر آٹھ بجے سے شروع ہو کر رات تین بجے تک چلی اور کسی کو احساس ہی نہ ہوا کہ اتنا وقت گزر گیا۔ اس محفل میں مشاہد حسین سید‘ سلیم صافی‘ حسن خان‘ طاہر خان‘ طارق پیرزادہ‘ ولید اقبال‘ سینیٹر جاوید عباسی‘ عامر اور دیگر مہمان شامل تھے۔ اس دفعہ کچھ افغان مہمان بھی تھے جن سے موجودہ حالات کو بہت کچھ سمجھنے کا موقع ملا۔ اس محفل میں باتیں سنتے ہوئے مجھے ڈان اخبار میں قریب ایک دہائی قبل چھپنے والے ایک مضمون کا متن یاد آ گیا۔ پاکستان کے پانچ سابق سیکرٹری خارجہ نے ایک مشترکہ مضمون لکھا تھا جو اخبار کے پہلے صفحے پر چھپا تھا۔ وہ مضمون
پاکستان کی طالبان پالیسی پر تھا۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ اس اہم مضمون میں ان سابق سیکرٹریز خارجہ نے ایک سوال پوچھا تھا کہ آخر ہم نے ان برسوں میں افغانستان میں پشتون طالبان کے علاوہ دیگر اقوام جن میں تاجک‘ ازبک‘ ہزارہ وغیرہ اور دیگر پڑھے لکھے اور باشعور طبقات شامل ہیں‘ کے ساتھ خود کو انگیج کیوں نہیں کیا؟ ہم نے کیوں سارے انڈے قدیم دور میں زندہ طالبان کی ٹوکری میں ڈال دیے؟ ہم نے ساری سرمایہ کاری صرف ان قوتوں پر کیوں کی جو جدید زمانے سے ہزاروں سال پیچھے ہیں؟ مجھے وہ مضمون یاد آنے کی وجہ ان دو تین مہمانوں کی گفتگو تھی جنہیں سن کر احساس ہوا کہ شاید ہم نے طالبان سے ہٹ کر دوسرے طبقات کو اہمیت نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ شاید ہم سمجھ بیٹھے تھے کہ طالبان ساری عمر ہمارے وفادار رہیں گے۔ یہ صاحبان جو حامد کرزئی اور اشرف غنی ادوار میں اہم عہدوں پر رہے‘ نے جو گفتگو کی وہ پاکستان کے لحاظ سے بہت اہم تھی۔ اگرچہ میجر عامر خود فوج سے ریٹائرڈ ہیں لہٰذا انہوں نے چند باتوں پر مسکرا کر اتنا کہا کہ پھر آپ کی باتوں کا جواب دینے کے لیے ہمیں کابل آنا پڑے گا کیونکہ یہاں آپ مہمان ہیں اور ہم میزبان۔ میجر عامر کا مطلب یہ تھا کہ سچے تو حامد کرزئی اور اشرف غنی بھی نہیں تھے لیکن اب یہ موقع نہیں ہے کہ ان ایشوز پر یہاں بات کی جائے لہٰذا کبھی کابل آپ کے گھر آنے کا موقع ملا تو وہیں بات ہو گی۔
پاکستان‘ بھارت اور افغانستان ایشوز پر کھل کر بات ہوئی اور بڑے تحمل سے بات سنی اور سنائی گئی۔ مشاہد حسین سید‘ پشتون صحافی دوست حسن خان اور دیگر نے اچھے سوالات پوچھے اور جوابات بھی اہم تھے۔ ایک چیز ہم سب نے محسوس کی کہ شاید پاکستان کو اب احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے طالبان کی ٹوکری میں اپنے سارے انڈے رکھ کر سمجھداری نہیں دکھائی لہٰذا جو بات ان سیکرٹریز خارجہ نے آج سے دس سال پہلے کی تھی‘ اس کا مفہوم اور مطلب اب سمجھ میں آ رہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ بھی کچھ اقوام رہتی ہیں‘ پاکستان کو ان سے بھی رابطہ رکھنا چاہیے تھا‘ بہت سے پروگریسو پشتون قبائل بھی افغانستان میں رہتے ہیں جو طالبان کی فلاسفی کے مخالف ہیں‘ انہیں اب شاید انگیج کیا جارہا ہے۔ شاید اس خطے میں کچھ مزید تبدیلیوں پر کام ہو رہا ہے اور پاکستان بڑی تیزی سے افغانستان میں اپنی سوچ اور اپروچ کو 180ڈگری پر بدلنے کا سوچ رہا ہے بلکہ سوچ چکا ہے۔ بھارت کے ہمیشہ افغانستان میں مفادات رہے ہیں کیونکہ اسے لگتا ہے کہ پاکستان کا کابل پر مکمل کنٹرول ہو گیا تو پاکستان بھارت کے لیے مشرقی سرحدوں پر مسئلہ پیدا کرے گا‘ جبکہ پاکستان کو ہمیشہ لگتا کہ اگر افغانستان ہمارے زیر اثر رہا تو ہم مشرقی بارڈر پر جنگ لڑ سکتے ہیں‘ یوں دونوں ملکوں کی جنگ کی قیمت افغان دے رہے ہیں۔ میجر عامر اور دیگر اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا ماننا ہے کہ طالبان سے پہلے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کبھی آئیڈیل تعلقات نہیں رہے خصوصاً ڈیورنڈ لائن کے ایشو کو لے کر۔ افغانستان ہمیشہ ڈیورنڈ لائن کو لے کر پاکستانی پشتونوں کو Exploit کرتا رہا ہے۔ میجر عامر تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ان کا بس چلے تو وہ خیبر پختون خوا میں ریفرنڈم کرا دیں کہ ہم ڈیورنڈ لائن ختم کر رہے ہیں‘ کون کون افغان شہری بننا چاہتا یا افغانستان میں شامل ہونا چاہتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ شاید ایک بھی پاکستانی پشتون اس حق میں ووٹ نہ دے جبکہ افغانوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ ملنا پسند کرے گی۔
بہت باتیں ہوئیں اور بہت کچھ سننے اور سمجھنے کا موقع ملا لیکن ایک بات طے ہے کہ شاید اس خطے میں کچھ تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ طالبان کا اقتدار خطرے میں نظر آ رہا ہے۔ پاکستان‘ جو طالبان کے آنے پر خوش تھا‘ اب پچھتا رہا ہے۔ سنا ہے کہ کچھ بڑے لوگ اس پچھتاوے کا کفارہ ادا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ (بشکریہ: روزنامہ دنیا)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ظفر الطاف افغانستان میں اسلام ا باد دستر خوان اور دیگر رہے ہیں کہ شاید کے ساتھ رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔