Jasarat News:
2026-07-24@04:29:45 GMT

آئینۂ کشمیر!!! کشمیر پر حماقتوں اور مغالطوں کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

آئینۂ کشمیر!!! کشمیر پر حماقتوں اور مغالطوں کی کہانی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت پانچ اگست 2019 کے بعد سے مسئلہ کشمیر کو یک طرفہ طور پر ختم کرچکا ہے۔ ایسا نہیں کہ بھارت نے پہلی بار مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے انکار کیا ہو۔ عرصہ دراز سے بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے کسی معنی خیز عمل کا حصہ بننے سے انکار کی مستقل پالیسی کو ’’اٹوٹ انگ‘‘ کی اصطلاح میں لپیٹ رکھا تھا مگر اٹوٹ انگ کی رٹ لگانے کے باوجود بھارتی حکمران ’’اگر مگر‘‘ کے ساتھ کشمیر پر کسی نہ کسی سمجھوتے کے عمل میں شریک رہ کر عملی طور پر کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرتے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اس پالیسی کی قالین ہی اْلٹ ڈالی ہے اور اب وہ کشمیر کے مسئلے کے وجود ہی سے انکاری ہو کر پاکستان کے ساتھ کسی سفارتی سرگرمی اور مذاکرات سے گریز کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ صرف کشمیر کی متنازع حیثیت سے انکار ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ کشمیریوں کا الگ وجود ثقافت اور شناخت بھی اب داؤ پر لگ چکی ہے۔ بھارت کے اس کوتاہ اندیشانہ اور یک طرفہ نکتہ نظر کے باوجود کشمیر نہ صرف ایک حقیقت کے طور پر موجود ہے بلکہ اس کی متنازع حیثیت کی حقیقت بھی اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اس حوالے سے تحقیقی علمی اور فکری کام بھی جا ری ہے۔ آزادکشمیر عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی کی تازہ تصنیف ’’آئینہ کشمیر‘‘ بھی اسی کام کا ایک تسلسل ہے۔

جسٹس سید منظور حسین گیلانی کی زندگی کا ایک اہم اور ابتدائی حصہ سری نگر میں گزرا۔ علی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کشمیر میں وکالت شروع کی۔ ستر کی دہائی میں ویزے پر آزادکشمیر میں مقیم اپنے والدین اور عزیزو اقارب سے ملنے آئے تو پھر یہیں کے ہو کر رہے۔ عملی زندگی کے سفر میں آزاد جموں وکشمیر عدالت عظمیٰ کے قائم قام چیف جسٹس تک جا پہنچے۔ کئی کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ سیاسی مبصر اور کالم نگار کے طور پر بھی متحرک ہیں۔ جسٹس گیلانی کی تازہ تصنیف مسئلہ کشمیر کے تاریخی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے حال اور مستقبل کے منظرنامے کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مصنف جب ماضی میں جھانکتے ہیں تو پاکستان کی کشمیر پالیسی پر قدم قدم پر جھول اور کمزوریاں نظر آتی ہیں جو قوت ارادی کی کمی سے پھوٹتی ہیں۔ یہ رویے صرف کشمیر کی حد تک ہی غالب نہیں بلکہ پاکستان کے کارپردازان کے یہ رویے خود پاکستان کے ساتھ اپنائے ہوئے نظر آتے ہیں جس کا نتیجہ اٹھتر سال بعد بھی بے سمتی اور غیر یقینی کی صورت میں نظر آتا ہے۔ کتاب میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، امریکا میں مقیم کشمیری راہنما ڈاکٹر غلام نبی فائی، پیپلزپارٹی کے راہنما فرحت اللہ بابر، معروف صحافیوں مجیب الرحمان شامی، حبیب اکرم، سابق بیوروکریٹ افضل علی شگری، سابق سفیر ڈاکٹر شاہد حشمت اور آزاد منش کشمیری دانشور مرتضیٰ شبلی کے تبصرے بھی شامل ہیں۔ ان میں خورشید قصوری چونکہ مسئلہ کشمیر کے ایک اہم موڑ کے واقف حال اور چشم دید گواہ ہیں اس لیے ان کے تبصرے کے اندر کئی خبریں اور انکشافات موجود ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب مشرف من موہن پیس پروسیس کے تحت دونوں ممالک کشمیر پر ایک حتمی سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے تھے کہ پاکستان میں وکلا تحریک نے سارا منظر بدل ڈالا اور یوں یہ لمحہ جسے دونوں ملکوں کی قیادت ہاتھ میں لینے کے قریب پہنچ چکی تھی بہت دور چلا گیا اور پھر لمحہ ٔ موجود کا وہ پنچھی اتنا دور نکل گیا کہ دوبارہ ہاتھ نہ آسکا۔

خورشید محمود قصوری نے اس سمجھوتے کے گیارہ نکات بیان کیے ہیں جس کو عرف عام میں مشرف کا چار نکاتی فارمولہ کہا جاتا ہے۔ یہ تمام نکات اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ اس کے بعد مسئلہ کشمیر کا حتمی یا کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل محض چند گام کی دوری پر رہ جاتا ہے۔ اس پر من وعن عمل سے کشمیر حقیقت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے میدان کے بجائے دوستی کا ایک پل بنتا ہو نظر آرہا ہے۔ شاید خطے کی سیاست کو کنٹرول کرنے والی طاقتوں کو اس مرحلے پر برصغیر میں ایسا آئیڈیل ماحول درکار نہیں تھا۔ خورشید قصوری کے بیان کردہ نکات میں نواں نکتہ منقسم کشمیر کی ممکنہ خدوخال کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایل او سی۔۔۔ نقشے پر ایک خط؛ بھارت کے اس موقف پر کہ سرحد تبدیل نہیں ہو سکتی پاکستان نے یہ جواب دیا کہ اس صورت میں سرحد کشمیریوں کے مابین موجود نہیں رہے گی اور یہ کہ ان کے لیے ایل او سی کے دوسری جانب سفر کرنے کی غرض سے ویز ایا پاسپورٹ ضروری نہیں ہوگا۔ اس طرح عملی طور پر ایل او سی نقشے پر ایک خط کے طور پر موجودہوگی‘‘۔

عملی طور پر معاملات خورشید قصوری کے اس بیان کردہ نکتے ہی کے تحت جاری تھے کیونکہ کشمیر کے منقسم خاندانوں کو ویزے پاسپورٹ کی پابندی سفر کی آزادی حاصل ہو چکی تھی اور کنٹرول لائن ان کے لیے حد ِ متارکہ جنگ یا محض ایک لکیر تھی جس کو عبور کرنے کے لیے انہیں محض مقامی انتظامیہ کی سفری دستاویزات درکارہوتی تھیں۔ اس سے یہ افسوسناک حقیقت بھی سامنے آتی ہے یہ سارا عمل اب رول بیک ہوچکا ہے۔ جسٹس گیلانی نے اپنی کتاب میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف ادوار میں زیر گردش تجاویز کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ کتاب میں خورشید قصوری کے موقف کو بھارتی سفارت کار جتندر لانبا کی کتاب’’امن کی تلاش‘‘ کے اس اقتباس سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان معاہدہ دستخطوں کے لیے تیار تھا لیکن دونوں ملکوں کے لیڈروں کی اقتدار سے محرومی کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا۔ مودی نے برسر اقتدار آنے کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے کی یوں کوشش کی کہ انہوں نے 2017 میں انہی جتندر لامبا کو وزیر اعظم نوازشریف کے نام ایک ذاتی خط دے کر پاکستان بھیجا اسی عرصہ کے دوران مودی کا خصوصی ایلچی اپنا جہاز لے کر نواشریف سے ملنے چلا گیا۔ جس کے بعد ایک ہی کام کے لیے دو نمائندوں کے ملنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی تھی۔ جسٹس گیلانی کی کتاب میں انکشاف کیا گیا۔ یہ آمدو رفت بھی ایک معاہدے کا مسودہ لے کر جاری تھی۔ اس معاہدے کا مسودہ نریندر مودی نے بھی دیکھا تھا۔ ایس کے لانبا کے مطابق سب کچھ ختم نہیں ہوا۔ امکانات موجود ہیں اصول اور معاہدے کا مسودہ بھی موجود ہے جو دونوں اطراف جب محسوس کریں اس پروسیس کو بحال کر سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں جسٹس گیلانی پرامید ہیں کہ پاکستان میں ایک مستحکم نظام حکومت قائم ہوتے ہی حالات دوبارہ اسی نہج کی طرف جا سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ غیر مستحکم پاکستان کے ساتھ اپنے دوست بھی مطمئن نہیں دشمن کہاں ہوسکتے ہیں اس لیے پاکستان میں مفاہمت کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کے جسٹس گیلانی پاکستان کے گیلانی کی کتاب میں کشمیر کی کے ساتھ کے بعد کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو