پاکستان اور انڈونیشیا کی مشترکہ فوجی مشق ’’شاہین اسٹرائیک ٹو‘‘ اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: پاکستان اور انڈونیشیا کی مشترکہ فوجی مشق ’شاہین اسٹرائیک ٹو‘ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشق ’شاہین اسٹرائیک 2‘ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔
دونوں ممالک کی افواج کے درمیان منعقد ہونے والی مشترکہ مشق 8 سے 19 نومبر تک منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق مشق کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں میں شامل طریقہ کار، تکنیک اور تعاون کو بہتر بنانا تھا، جس کے لیے شہری علاقوں میں آپریشنز اور دھماکا خیز مواد سے تیار اشیاء کو تلف کرنے کے عملی اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ص
آئی ایس پی آر کے مطابق مشق میں پاک فوج اور انڈونیشین آرمی کے اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور آپریشنل صلاحیتوں کا اعلیٰ ترین معیار پیش کیا جبکہ تمام طے شدہ تربیتی اہداف بھی کامیابی سے حاصل کیے گئے۔
اختتامی تقریب میں پاک فوج کے جی او سی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ انڈونیشیا کی جانب سے اعلیٰ فوجی حکام نے نمائندگی کی۔ اِس مشترکہ مشق سے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ فوجی تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انڈونیشیا کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔