Islam Times:
2026-06-03@07:39:22 GMT

پیپلزپارٹی بلتستان میں اختلافات شدت اختیار کرنے لگے

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

پیپلزپارٹی بلتستان میں اختلافات شدت اختیار کرنے لگے

رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی بلتستان الیکٹیبلز کی سیاست کا راستہ روکنے کیلئے سرگرم ہو گئی، پیپلز پارٹی بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام سینئر رہنماں، پارٹی عہدیداروں اور ہم خیال پارٹی ذمہ داران کی خفیہ مقام پر ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں پارٹی کے تمام سینئر رہنماں اور عہدیداران موجود تھے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے عام انتخابات کا موسم شروع ہوتے ہی پیپلزپارٹی بلتستان میں اختلافات شدت اختیار کرنے لگے۔ رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی بلتستان الیکٹیبلز کی سیاست کا راستہ روکنے کیلئے سرگرم ہو گئی، پیپلز پارٹی بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام سینئر رہنماں، پارٹی عہدیداروں اور ہم خیال پارٹی ذمہ داران کی خفیہ مقام پر ایک بڑی بیٹھک ہوئی جس میں پارٹی کے تمام سینئر رہنماں اور عہدیداران موجود تھے، پارٹی کے ذمہ داران نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ الیکٹیبلز کی بڑی کھیپ پارٹی میں موجود ہونے کے باجود باہر سے مذید الیکٹیبلز کو پارٹی میں لایا جا رہا ہے جس سے پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں میں تشویش بڑھتی ہی جا رہی ہے اور وہ پارٹی کے مستقبل کے بارے میں بڑے پریشان دکھائی دے رہے ہیں، ہر حلقے میں دو سے تین الیکٹیبلز پہلے ہی موجود ہیں اب اوپر سے مذید الیکٹیبلز کی کھیپ کو پارٹی میں لانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی بیٹھک میں بتایا گیا گہ الیکٹیبلز کی بڑی تعداد کو پارٹی میں لانا پارٹی کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، بتایا جائے کہ پارٹی کارکن کس کی انتخابی مہم چلائیں گے؟ پارٹی کی فارمیشن مکمل ہے تو باہر سے مذید لوگوں کو پارٹی میں لانے کی بنیادی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کو سمجھایا گیا کہ وہ الیکٹیبلز کی کھیپ کو پارٹی میں لا کر پارٹی کو مسائل کے بھنور میں پھنسانے کی غلطی نہ کریں مگر وہ اپنے فلسفے کے تحت مذید الیکٹیبلز کو پارٹی میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، ہر حلقے میں دو سے تین الیکٹیبلز کی موجودگی کے باوجود باہر سے مذید الیکٹیبلز کو پارٹی میں لایا جا رہا ہے، ایسے میں الیکشن کے وقت انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ آئیگا تو فیصلہ کیسے کیا جائے گا؟ جس الیکٹیبل کو پارٹی ٹکٹ ملے گا وہ پارٹی میں رہیگا اور باقی لوگ کسی اور حیثیت سے الیکشن میں جائیں گے، اس طرح پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

بیٹھک میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کو ایک بار پھر سمجھا جائے گا کہ وہ الیکٹیبلز کی موجودگی میں مذید الیکٹیبلز کو پارٹی میں لانے کی روش ترک کریں، اگر وہ پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے سمجھائے جانے کے باوجود الیکٹیبلز کو لانے پر بضد رہے تو پلان “بی” بنایا جائے گا پلان “بی” بہت سخت ہوگا، جسے فی الحال خفیہ رکھا جائے گا، ذرائع کے مطابق الیکٹیبلز کے معاملے پر پیپلز پارٹی بلتستان میں بڑے اختلافات پیدا ہو رہے ہیں، ذرائع کے مطابق مقامی ہوٹل میں ہونے والی بیٹھک میں بتایا گیا کہ جو لوگ اس وقت الیکٹیبلز کی شکل میں پارٹی میں موجود ہیں وہ تنظیمی عہدیداروں سے ملکر الیکشن لڑنے کی غرض سے پارٹی میں آئے ہوئے لوگ ہیں اور ان کو لانے کے سلسلے میں پارٹی میں بڑی مشاورت ہوئی ہے، انہیں پارٹی ذمہ داران کی طرف سے باقاعدہ زبان دی گئی ہے۔ پارٹی عہدیداروں کی یقین دہانی کے بعد یہ لوگ پارٹی میں شامل ہوئے ہیں ان کے ساتھ وعدے وعید ہیں مگر اب ایسے لوگوں کی شمولیت کی بازگشت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی بلتستان کو پارٹی میں لانے کی میں پارٹی پارٹی کے کے مطابق جائے گا

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔

عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم