نگران حکومت کے لیے ناموں کا فیصلہ متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ تھا، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ نگران وزیر اعلیٰ کے لیے نام دینا اپوزیشن لیڈر کا صوابدیدی اختیار تھا، تاہم میں نے تمام اپوزیشن اراکین سے مکمل مشاورت کی اور ہر ممبر سے پینل کے لیے نام بھی طلب کیے۔ اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی کا ظم میثم نے کہا ہے کہ نگران حکومت کے لیے نام دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کسی فرد واحد کا نہیں تھا بلکہ یہ متحدہ اپوزیشن کے تمام اراکین کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن کے اہم اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے اراکین وزیر محمد سلیم، کلثوم فرمان، سید سہیل عباس اور کرنل عبید اللہ نے بھی بھرپور شرکت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ نگران وزیر اعلیٰ کے لیے نام دینا اپوزیشن لیڈر کا صوابدیدی اختیار تھا، تاہم میں نے تمام اپوزیشن اراکین سے مکمل مشاورت کی اور ہر ممبر سے پینل کے لیے نام بھی طلب کیے۔ تحریک انصاف کے مؤقف کا مکمل احترام کرتا ہوں، مگر ضروری ہے کہ ایوان کی کارروائی شائستگی اور نظم کے ساتھ چلائی جائے تاکہ باہمی اعتماد مجروح نہ ہو۔
اپوزیشن لیڈر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ماضی میں مختلف اور اہم تعیناتیوں میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد تعینات ہوئے، لیکن ہم نے کبھی ان فیصلوں کو بدنیتی یا خیانت سے تعبیر نہیں کیا، کیونکہ وہ متعلقہ ذمہ داران کا صوابدیدی اختیار تھا اور ان معاملات میں ہم سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کے معاملے پر پی ٹی آئی اراکین اسمبلی بائیکاٹ کے حق میں نہیں تھے، لہٰذا ان کی رائے کا احترام کیا گیا۔ ہم نے کبھی اپوزیشن کے معزز اراکین کی رائے کو خیانت نہیں سمجھا، بلکہ ہمیشہ اتفاقِ رائے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر کے لیے نام
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔