مخصوص نشستوں کا کیس، جسٹس جمال مندوخیل کا تفصیلی اختلافی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
مخصوص نشستوں کے کیس میں جسٹس جمال مندوخیل کا تفصیلی اختلافی فیصلہ جاری کر دیا گیا۔
فیصلے میں جسٹس جمال مندوخیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 41 آزاد امیدواروں نے آئین کے تحت سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی۔
اختلافی فیصلے کے مطابق 41 امیدواروں کا معاملہ سپریم کورٹ میں کبھی زیر التوا نہیں تھا، عدالت کے پاس اختیار نہیں کہ کسی امیدوار کی حیثیت تبدیل کرے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرمی ایکٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرنے والے 2 ججز جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اختلافی نوٹ جاری کر دیا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ آرٹیکل 187 کا اختیار لامحدود نہیں، مکمل انصاف صرف زیرِ سماعت معاملے میں ہوسکتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اختلافی فیصلے میں لکھا کہ41 ارکان کو آزاد قرار دینا اختیارات سے تجاوز ہے، 41 امیدواروں کے پی ٹی آئی سے تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا، منتخب رکن کسی پارٹی میں شامل ہو جائے تو پارٹی چھوڑ نہیں سکتا۔ جماعت چھوڑنے پر رکن کو آرٹیکل 63 اے کے تحت نشست سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
انہون نے اختلافی فیصلے میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت کوئی اتھارٹی ووٹ کی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتی، 41 امیدواروں کو آزاد قرار دینا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی فیصلے میں 15 دن میں جماعت تبدیل کرنے کا اختیار دینے کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ اکثریتی فیصلہ حقائق کے بھی خلاف تھا، زیرِ نظر فیصلہ اس حد تک برقرار نہیں رہ سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل اختلافی فیصلے میں نے اختلافی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔