چیف جسٹس یحیی آفریدی کے صاحبزادے پشاور کے بڑے طبی ادارے کے لیگل ایڈوائزر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پشاور کے 3 بڑے میڈیکل اداروں خیبر میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال، خیبر میڈیکل کالج اور خیبر کالج آف ڈینٹسٹر، نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی کے صاحبزادے بیرسٹر ابراہیم خان آفریدی کو اپنا قانونی مشیر مقرر کر دیا ہے۔ بورڈ آف گورنر نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق بیرسٹر ابراہیم خان آفریدی کی تقرری ایک سال کے لیے کی گئی ہے جس کے دوران وہ اداروں کو ہر قسم کے قانونی معاملات میں رہنمائی فراہم کریں گے۔
وہ تمام عدالتوں میں کیسز کی پیروی، قانونی دستاویزات کی تیاری اور اداروں کو درکار ہر طرح کی قانونی رائے دینے کے ذمہ دار ہوں گے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ لیگل ایڈوائزری کی خدمات کے عوض بیرسٹر ابراہیم خان آفریدی کو ماہانہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق ان کی تقرری کا مقصد ایم ٹی آئیز میں قانونی معاملات کو بہتر انداز میں دیکھنا اور مستقبل میں درپیش پیچیدگیوں سے بروقت نمٹنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔