27ویں ترمیم: سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمشن کی تشکیل نو: جسٹس یحییٰ کونسل کے سربراہ، جسٹس امین سینئر ممبر
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) 27 ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی۔ چیف جسٹس یحیی آفریدی جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہوں گے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں چیف جسٹس صاحبان کی مشاورت سے جسٹس جمال خان مندوخیل سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کے ممبر بن گئے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمشن کے ممبر نامزد کیے گئے ہیں۔ جسٹس جمال خان مندوخیل پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے ممبر نامزد ہوئے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان جوڈیشل کونسل کے دوسرے سینئر ممبر ہوں گے۔ جسٹس منیب اختر، جسٹس حسن رضوی، جسٹس جمال مندوخیل جوڈیشل کونسل کے رکن ہوں گے جبکہ جسٹس مندوخیل کی نامزدگی دونوں چیف جسٹس نے مشاورت سے کی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔ چیف جسٹس امین خان، جسٹس منیب اختر کمشن کے رکن ہوں گے۔ جسٹس حسن رضوی، جسٹس عامر فاروق جوڈیشل کمشن کے ممبر بن گئے۔ ان کے علاوہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان کمشن کے رکن ہوں گے۔ حکومتی اور اپوزیشن کے دو دو ارکان پارلیمان کمشن کے رکن ہوں گے، پاکستان بار کونسل کا نامزد وکیل اور سپیکر قومی اسمبلی کی نامزد خاتون کمشن کی ممبر ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔