ٹائلز سیکٹر، سالانہ 30 ارب سے زائد ٹیکس چوری، کیمروں کی تنصیب کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)ٹائلز سیکٹر میں سالانہ 30 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہواہے ، ایف بی آرنے سترہ بڑے شعبوں میں پیداواری یونٹس پر اے آئی بیسڈ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کر لیاہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں فیکٹریز میں کیمروں کی تنصیب پر شدید بحث ہوئی ۔ اس سال شوگر سیکٹر سے 76 ارب،سیمنٹ سیکٹر سے 102 ارب اضافی ٹیکس آمدن متوقع ہے، ایک چینی کمپنی نے بڑی تعداد میں کیمروں کی تنصیب کی شدید مخالفت کر دی ، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ویڈیو کیمروں کی تعداد 16 سے کم کرکے 4 کر دی گئی ہے، چوری روکنے کیلئے ویڈیو انیٹیکل کیمروں کی تنصیب ضروری ہے۔
چینی کمپنی کے نمائندوں نے کیمروں کی تنصیب کے بغیر ہی سیلز ٹیکس دینے پر اصرار کیا، چیئرمین ایف بی آر نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ فیکٹری پر کیمرے نصب کریں یا اپنا بزنس بند کریں۔ ایف بی آر حکام کا کہناتھا کہ چار کیمرے بیلٹ، پیکنگ ایریاز، داخلی وخارجی راستوں پر نصب کیئے جائیں گے، فیکٹری میں بننے اور باہر نکلنے والی ایک ایک ٹائل کاؤنٹ کی جائے گی، نمائندہ چینی کمپنی نے کہا کہ سعودی عرب اور تھائی لینڈ سمیت کسی ملک میں ایسا سسٹم نصب نہیں، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ وفاقی وزرا کی شوگر ملز پر بھی کیمرے نصب ہیں، کوئی اعتراض نہیں آیا۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہناتھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے تمام شوگر ملز پر ویڈیو کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی ہے، ہمیں کمپنی کی اپنی کاؤنٹنگ پر اعتبار نہیں، نئے اے آئی سسٹم پر اعتبار ہے، چینی کمپنی نے کہا کہ یہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کا معاملہ ہے، نظرثانی کی جائے، کیمروں کی تنصیب سے ہمارے ٹریڈ سیکرٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ شوگر، سیمنٹ سمیت تمام بڑے کاروباری شعبوں میں کیمرے نصب ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیئرمین ایف بی ا ر نے کیمروں کی تنصیب چینی کمپنی کیمرے نصب نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔