77 سال بعد چینی کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
اسلام آباد : حکومت نے 77 سال بعد شوگر انڈسٹری کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا، ڈی ریگولیٹ کرنےکی سمری رواں ہفتےوزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے 77 سال بعد ملک میں چینی کی قیمتوں اور شوگر انڈسٹری پر حکومتی کنٹرول ختم کرنے کی تیاری کر لی ہے۔وزارتِ غذائی تحفظ کے ذرائع بتایا کہ شوگر انڈسٹری کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کی سمری تیار کر لی گئی ہے، جو رواں ہفتے وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ رانا تنویر حسین یہ سمری وزیر اعظم کو پیش کریں گے۔ سمری میں نئی شوگر ملز لگانے پر پابندی ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ڈی ریگولیشن کے بعد حکومت کا چینی کی درآمد و برآمد کا اختیار ختم ہو جائے گا جبکہ حکومت کا قیمتوں کے تعین کا سرکاری اختیار بھی ختم ہو جائے گا اور چینی کی قیمتیں اوپن مارکیٹ کے مطابق طے ہوں گی۔
دوسری جانب ملک بھر میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کردی ہے ، کراچی میں چینی 180 سے 190 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔فیصل آباد اور سکھر میں قیمت 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی جبکہ لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے .
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چینی کی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز