بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر سیکریٹری داخلہ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر سیکریٹری داخلہ، جیل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔
عدالت میں جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل سلمان اکرم راجا کی درخواست پر سماعت کی۔
وکیل سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ آپ کے تحریری حکم کے باوجود آخری منگل کو ملاقات نہیں کروائی گئی، ایس ایچ او نے آپ کا حکم مانا ہی نہیں۔
اُنہوں نے عدالت سے اپیل کی کہ آج ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو ساتھ بھجوا دیں۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ کسی کو ساتھ نہیں بھیج سکتے، نوٹس جاری کرتے ہیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
سلمان اکرم راجا نے یہ استدعا بھی کی کہ عدالت اگلی سماعت کی تاریخ دے دے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آپ کو ایکس کیس سے پہلے کی تاریخ مل جائے گی جس پر سلمان اکرم راجا نے جواب دیا کہ وہ کیس تو دسمبر میں ہے، آج ملاقات کا دن ہے، عدالت ملاقات کی اجازت تو دے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کیا اور سوال کیا کہ ’اے جی صاحب ہمارے حکم کے بعد ان کی ملاقات کیوں نہیں ہوئی؟‘
جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ’ہم نے آگے بتا دیا تھا، میں متعلقہ حکام کو آج پھر آگاہ کر دوں گا۔‘
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ سلمان اکرم راجا ملاقات نہ کرسکے تو وہ کیس میں معاونت کیسےکریں گے؟
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو سلمان اکرم راجا کی جیل ملاقات کا معاملہ دیکھنے کی ہدایت کردی اور توہین عدالت درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس ارباب محمد طاہر نے سلمان اکرم راجا نوٹس جاری
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔