وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی ترمیم 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل تھی لیکن بعد میں ڈراپ کردی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے، جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں طاقت پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ جب تک ہم بلدیاتی نظام کو مضبوط نہیں کریں گے، فیڈریشن مضبوط نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی کون سی قوم پرست سیاسی جماعتیں 27ویں آئینی ترمیم کی مخالف ہیں؟

وزیر دفاع نے کہا ملٹری ڈکٹیٹرز نے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروائے، ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام دیا، ضیاالحق کے دور میں سسٹم چلتا رہا، مشرف دور میں بھی بلدیاتی ادارے فعال رہے، مگر 18ویں ترمیم میں واضح طور پر لکھے جانے کے باوجود بلدیاتی نظام پر عمل نہیں کیا۔

خواجہ آصف نے خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے، بدقسمتی سے ہمارا ڈی این اے جمہوری نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کا آنکھوں دیکھا حال

انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کی ترمیم کسی حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حق میں تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وزیر دفاع خواجہ آصف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع خواجہ آصف خواجہ آصف ایم کی

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن