اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت ممکن نہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کی ترمیم 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل تھی لیکن بعد میں ڈراپ کردی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے، جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ لاہور، کراچی، کوئٹہ اور پشاور میں طاقت پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ جب تک ہم بلدیاتی نظام کو مضبوط نہیں کریں گے، فیڈریشن مضبوط نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی کون سی قوم پرست سیاسی جماعتیں 27ویں آئینی ترمیم کی مخالف ہیں؟
وزیر دفاع نے کہا ملٹری ڈکٹیٹرز نے لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروائے، ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کا نظام دیا، ضیاالحق کے دور میں سسٹم چلتا رہا، مشرف دور میں بھی بلدیاتی ادارے فعال رہے، مگر 18ویں ترمیم میں واضح طور پر لکھے جانے کے باوجود بلدیاتی نظام پر عمل نہیں کیا۔
خواجہ آصف نے خود احتسابی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اختیارات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے، بدقسمتی سے ہمارا ڈی این اے جمہوری نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کا آنکھوں دیکھا حال
انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کی ترمیم کسی حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حق میں تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وزیر دفاع خواجہ آصف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وزیر دفاع خواجہ آصف خواجہ آصف ایم کی
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔