Nawaiwaqt:
2026-07-24@04:09:47 GMT

وزیر دفاع خواجہ آصف کاسخت ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

وزیر دفاع خواجہ آصف کاسخت ردعمل

وفاقی دارالحکومت کے علاقے جی الیون کچہری کے باہر منگل کو ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے سخت ردعمل میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب بھی حالتِ جنگ میں ہے۔ وزیر دفاع نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج صرف سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز حصوں میں لڑ رہی ہے، وہ جاگ جائیں۔ آج اسلام آباد کی ضلعی کچہری میں ہونے والا خودکش حملہ ایک وییک اپ کال ہے، جو یاد دلاتا ہے کہ یہ جنگ پورے پاکستان کی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاک فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر رہی ہے تاکہ عوام کو تحفظ اور اعتماد کا احساس ملے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات کی زیادہ امید رکھنا بے فائدہ ہے۔ ان کے مطابق افغان حکومت اگر چاہے تو پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتی ہے، مگر اسلام آباد تک دہشت گردی لانا ایک واضح پیغام ہے، جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعدازاں، خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ حملہ ریاست پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے اس خطرے کا مقابلہ کریں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں پہلے سے اندازہ تھا کہ ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس قسم کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک دہشتگردی زیادہ تر سرحدی علاقوں تک محدود تھی، مگر اسلام آباد پر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ دشمن اب ملک کے دارالحکومت تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ، خاص طور پر ٹی ٹی پی، کو افغان حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کابل میں بیٹھے ان کے چیلے اب کھل کر پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں، اور کابل حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ وہ ان کی ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حملے سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دہشتگرد یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا کوئی علاقہ ان کی زد سے باہر نہیں۔ افغان حکومت نے دراصل اس صورتحال کا درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، اور اب ریاست پاکستان کو اس خطرے کا سخت جواب دینا ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج نے دہشتگردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، اور اب ایک بار پھر وقت آگیا ہے کہ ہم متحد ہو کر ان عناصر کا خاتمہ کریں۔ پاکستان دہشتگردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، چاہے یہ کارروائیاں سرحدی علاقوں میں ہوں یا شہری مراکز میں، ہم کسی کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی تھوڑی بہت امید باقی تھی، مگر اسلام آباد کچہری دھماکے کے بعد اب حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ اس حملے کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہی، ٹی ٹی پی دراصل افغان سرزمین پر بیٹھے دہشتگردوں کی ایک توسیع ہے، اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ریاست کو اب فیصلہ کن سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ دہشتگردی کا خطرہ پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جی الیون کچہری کے باہر منگل کی دوپہر ایک زوردار خودکش دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ بھارتی اسپانسرڈ افغان طالبان کی پراکسی تنظیم کی جانب سے کیا گیا۔ دھماکے کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کا سر سڑک پر پڑا ہوا ملا۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو پمز اسپتال منتقل کیا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس اور حساس اداروں نے جائے وقوعہ کو سیل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور امن کی خاطر ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری حد تک لڑی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے خواجہ آصف نے افغان حکومت کہ پاکستان اسلام آباد نے کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ