Islam Times:
2026-07-24@11:05:26 GMT

میرواعظ کشمیر نے دہلی بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

میرواعظ کشمیر نے دہلی بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا

حریت رہنما نے ایکس پر لکھا کہ میری دلی ہمدردیاں مرحومین کے اہل خانہ کیساتھ ہیں اور زخمیوں کے جلد شفا یابی کیلئے دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ متاثرہ افراد کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظ کشمیر اور سینیئر آزادی پسند رہنما ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے دہلی کار بم دھماکے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ دہلی میں ہوئے المناک کار دھماکے کی وجہ سے بے حد افسردہ ہوں، اس دھماکے نے قیمتی جانیں لے لی ہیں اور متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا کہ میری دلی ہمدردیاں مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کے جلد شفا یابی کے لئے دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ متاثرہ افراد کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ واضح رہے پیر کی شام درالحکومت دلی اُس وقت دہل اٹھی جب لال قلعہ میڑو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے باہر ایک خوفناک بم دھماکہ ہوا جس میں موقع پر ہی کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ 24 دیگر زخمی ہوگئے۔ تاہم زخمی افراد میں سے چند افراد دوران علاج تاب نہ لاکر لا چل بسے اور اس دھماکے میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 12 تک پہنچی چکی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ کار بم دھماکہ اس قدر شدید تھا کی 900 میٹر تک اس کا اثر محسوس کیا گیا اور آس پاس دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ بم دھماکے کے مقام کے نزدیک موجود گاڑیوں کو بھی آگ لگ گئی۔ ایسے میں دھماکے کے بعد دلی، اترپردیش، ہریانہ اور ممبئی الرٹ پر ہے۔ ادھر گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر اور اننت ناگ نے ایک سرکیولر جاری کرتے ہوئے تمام فیکلٹی ممبران، شعبہ جات کے سربراہان، اسپتالوں کے ان تمام ڈاکٹروں اور طلباء کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے لاکرز پر نام، عہدہ اور کوڈ درج کریں اور یہ عمل 14 نومبر 2025ء تک مکمل کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی