زرین خان کی تعزیت کے لیے گئے مقبول ادکار جیتیندر لڑ کھڑا کر گر گئے
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
ممبئی (نیوزڈیسک) ماضی کی فلموں میں درجنوں ولنز کو اکیلے سر مارنے والے مقبول بولی وڈ ہیرو جیتیندر زرین خان کی تعزیت کے لیے جاتے وقت لڑ کھڑا کر گر ئے۔
شوبز ویب سائٹ کے مطابق 83 سالہ جیتیندر چند دن قبل چل بسنے والی اداکارہ زرین خان کی تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے تھے، جہاں وہ سیڑھی چڑھتے ہوئے گر گئے۔
سیڑھی کا زینا چڑھنے کے دوران لڑ کھڑا کر گرنے کی جیتیندر کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں انہیں گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیتیندر کار سے اترنے کے بعد گھر میں داخل ہونے کے لیے سیڑھی کا زینا چڑھتے ہوئے لڑ کھڑا جاتے ہیں اور اپنا توازن کھو کر گر پڑتے ہیں۔
خوش قسمتی سے جیتیندر کسی چیز سے نہیں ٹکرائے اور خود ہی اٹھنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی ان کی مدد کے لیے ڈرائیور اور وہاں موجود دوسرے لوگ آ پہنچے۔
بعد ازاں جیتیندر کے بیٹے اداکار تشار کپور نے والد کی صحت کے حوالے سے بتایا کہ ان کے والد روبہ صحت ہیں، انہیں کوئی چوٹ نہیں لگی۔
ان کے مطابق لڑ کھڑا کر گرنے کا واقعہ معمولی تھا، ان کے والد کو بڑی چوٹ نہیں لگی اور وہ خیریت سے ہیں۔
جیتیندر چند دن قبل انتقال کر جانے والی اداکار زید خان کی والدہ اداکارہ زرین خان کی تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے تھے، باہر پارکنگ ایریا میں ہی وہ لڑ کھڑا کر گر گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زرین خان کی تعزیت کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک