سیاسی انار کی نے ملکی ترقی کو روک دیا ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی جانب سے مہنگی بجلی کے حصول کے خلاف بھر پور جدوجہد اور احتجاج کے نتیجے میں حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدوں کی منسوخی اورنظر ثانی کی بدولت 36سو ارب کی بچت،اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاست کا دارومدار اختلاف برائے اختلاف نہیں بلکہ اختلاف برائے اصلاح ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز گزشتہ تقریبا ً دو دہایؤں سے ملک و قوم کا خون نچوڑ نے میں مصروف ہیں۔ بجلی کی پیداوار نہ کرنے کے باوجود کپیسٹی چارجز کے نام پر ہر سال دو ہزار ارب روپے دیے جا رہے تھے۔ جماعت اسلامی اپنا قومی فرض ادا کرتی رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں کا اختیار حکومت جو دینے کی سازش ہو رہی ہے جو کہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں، حکمرانوں نے ثابت کر دیا ہے کہ انہوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے کچھ حاصل نہیں کیا۔ جماعت اسلامی 26آئینی ترمیم کی طرح 27ویں آئینی ترمیم کو بھی جمہوری عمل پر شب خون مارنے کے مترادف سمجھتی ہے اور اس کی بھی حمایت نہیں کرتی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو آئین کی روح کے مطابق چلنا ہو گا۔ وقتی فوائد اور سیاسی مفاد پر مبنی آئینی ترامیم درحقیقت ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہا ہے،ادارے تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔سیاسی انارکی، اختلافات، انتشار اور افراتفری نے ملک و قوم کی ترقی کو روک دیا ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جا سکتا ہو۔ مزدوروں سے لیکر ڈاکٹرز، انجینئرز اور کسان سبھی پریشان حال ہیں۔محمدجاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام سے کیا کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ حالات دن بدن ابتر ہو تے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ داخلی پالیسیوں کو انتقامی سیاست اور ڈنگ ٹپاؤ اقدامات سے پاک کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی ملک و قوم انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔