صوبے میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ ( آئی این پی )اہل سنت و جماعت کے رہنما فیضان اولیا کے بانی ذوالفقار علی طارقی قادری نے آستانہ عالیہ فیضان اولیا میں وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ، جو صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے، آج اپنے ہی باشندوں کے لیے مشکلات کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے کھنڈر کا منظر پیش کر رہے ہیں ترقیاتی منصوبے جو عوامی فلاح کے لیے شروع کیے گئے تھے، وہ تاخیر اور غفلت کا شکار ہیں۔سڑکیں جگہ جگہ سے کھدی ہوئی ہیں، مٹی کھڈے اور ادھوری تعمیرات نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گرد و غبار کی وجہ سے سانس، آنکھوں اور جلد کی بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر صفائی اور صحت کے نظام کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، صوبے میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، لوگ خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کبھی دہشت گردی، کبھی ٹارگٹ کلنگ، کبھی اغوا برائے تاوان یہ وہ مسائل ہیں جو برسوں سے عوام کے سر پر منڈلا رہے ہیں، مگر حکومتی سطح پر کوئی سنجیدہ اقدام دیکھنے میں نہیں آ رہا۔صوبے کے مختلف اضلاع میں لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، کاروبار ٹھپ پڑے ہیں، تعلیمی ادارے خوف کی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جہاں عوام اپنے بنیادی حقوق اور تحفظ کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں، وہیں وزرا و اعلی حکام بیرونی دوروں، سیمیناروں اور سیر سپاٹوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ عوامی مسائل پسِ پشت ڈال دیئے گئے اور صوبے کے حالات روز بروز مزید ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔بلوچستان آج ایک “مسائلستان” کا گڑ بن چکا ہے، جہاں ہر مسئلے کو سیاست کے رنگ میں لپیٹ کر حقیقتوں سے منہ موڑ لیا گیا ہے۔ اداروں کے درمیان رابطے کا فقدان، بدعنوانی اور بے حسی نے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات درست کرے۔ امن و امان کو سیاسی بیانیوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے بحال کیا جائے۔ عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر اب بھی خوابِ غفلت سے نہ جاگا گیا تو بلوچستان کا یہ دردناک باب تاریخ کا حصہ بن جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز