Jasarat News:
2026-06-03@07:25:50 GMT

ای چالان: انصاف کہاں ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-03-7
جمیل احمد خان
کراچی، وہ شہر جو کبھی روشنیوں، محبتوں اور زندگی کی رمق سے بھرپور تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت بے بسی، ناانصافی اور عدمِ احساس کا سایہ منڈلا رہا ہے کبھی یہی شہر پاکستان کی پہچان تھا، جس کی سڑکوں پر زندگی دوڑتی تھی، جس کی فضا میں اْمید کی خوشبو تھی، مگر آج انھی سڑکوں پر عام شہری خوف اور مایوسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے حکومت نے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے نام پر جو نیا ای چالان نظام متعارف کرایا ہے، وہ شہریوں کے لیے ایک نئے عذاب سے کم نہیں اب شہر کا ہر ڈرائیور، ہر موٹرسائیکل سوار، ہر مزدور اپنے روزگار کی فکر سے پہلے اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی نیا چالان اْس کے محدود بجٹ کو نہ نگل جائے یہ احساسِ محرومی اور بے بسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام کے دلوں میں قانون کے احترام کے بجائے نفرت اور بداعتمادی کے بیج بو دیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک کے ای چالان کا جو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے وہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے اس نظام کے آغاز کے ساتھ ہی جرمانوں کی شرح اس قدر زیادہ مقرر کر دی گئی ہے کہ عام شہری کے لیے اسے برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جرمانے ایسے شہر میں عائد کیے جا رہے ہیں جہاں سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک سگنل اکثر خراب رہتے ہیں، لین مارکنگ ناپید ہے، نکاسی آب کا نظام تباہ حال ہے اور انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اس سب کے باوجود شہریوں پر ایسے بھاری جرمانے لاگو کیے جا رہے ہیں جیسے وہ دبئی یا کسی ترقی یافتہ ملک میں گاڑیاں چلا رہے ہوں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا شہری روزانہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ان گڑھوں، کچرے، پانی اور دھول سے بھری سڑکوں پر سفر کرتا ہے مگر اس کی معمولی سی کوتاہی پر ہزاروں روپے کا چالان اس کے منہ پر دے مارا جاتا ہے بعض رپورٹس کے مطابق ہیلمٹ نہ پہننے پر پانچ ہزار، سگنل توڑنے پر دس ہزار اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر تیس ہزار روپے تک کے چالان جاری کیے جا رہے ہیں پہلے ہی دن دو ہزار سے زائد چالان کیے گئے جن کی مجموعی رقم ایک کروڑ سے زائد بنتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ رقم ٹریفک کی بہتری پر خرچ ہوگی یا یہ عوام کی جیب سے نکلا ہوا پیسہ کسی اور مد میں جذب ہو جائے گا؟

اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ پنجاب سے کریں تو فرق زمین و آسمان کا ہے وہاں جرمانے بہت کم ہیں اور اگر اضافہ بھی کیا جا رہا ہے تو تدریجی بنیادوں پر تاکہ عوام پر ایک دم سے بوجھ نہ پڑے پنجاب میں اب تک موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ نہ پہننے پر دو سو روپے، موبائل فون کے استعمال پر پانچ سو روپے اور سگنل کی خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور وہاں حکومت پہلے سڑکیں بناتی ہے، لین مارکنگ کرتی ہے، ٹریفک کے اصولوں کی آگاہی دیتی ہے پھر قانون نافذ کرتی ہے جبکہ کراچی میں الٹا نظام رائج ہے یہاں پہلے

جرمانے بڑھا دیے گئے اور بعد میں عوام کو بتایا گیا کہ یہ نظام بہتری کے لیے ہے اگر انفرا اسٹرکچر درست نہیں، ٹریفک پولیس تربیت یافتہ نہیں، سڑکیں قابل استعمال نہیں تو ایسے میں جرمانے لگانا سراسر ظلم ہے۔ عوام کا غصہ بجا ہے کہ پہلے سڑکیں بنائی جائیں، ٹریفک سگنل درست کیے جائیں، پارکنگ کے باقاعدہ مقامات بنائے جائیں اور رشوت ستانی ختم کی جائے اس کے بعد جرمانے لگائے جائیں۔ کراچی کا شہری ویسے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہے اوپر سے اگر اسے روزانہ کسی نہ کسی چالان کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جائے تو کہاں جائے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو مگر افسوس کہ یہاں طاقتور اور اثر رسوخ والے طبقے کو کبھی چالان نہیں ملتا عام آدمی جس کی گاڑی یا موٹرسائیکل پر تھوڑا سا بھی فرق نظر آ جائے فوراً اس پر ای چالان بھیج دیا جاتا ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ یہ نظام شفاف ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر کیمرے درست زاویے پر نہیں لگے ہوتے، غلط نمبر پلیٹ پڑھ کر بے گناہ شہریوں کو چالان بھیج دیا جاتا ہے اور جب وہ اعتراض درج کرانے جاتے ہیں تو مہینوں ان کا کیس لٹکا رہتا ہے مزید ستم یہ کہ اگر گاڑی کسی مرحوم کے نام پر ہو یا مالک کا پتا نامعلوم ہو تو چالان کا تعین ہی ممکن نہیں رہتا جس سے نظام کی ناقص منصوبہ بندی عیاں ہوتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب عوام کو تمام سہولتیں فراہم کر دی جائیں تاکہ ان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی نہ ہو، مگر کراچی میں الٹ ہو رہا ہے یہاں پہلے سزا دی جاتی ہے اور بعد میں سہولت دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا اعتماد ختم ہو جانا فطری امر ہے، ٹریفک کے قوانین کا مقصد عوام کو نظم و ضبط سکھانا ہوتا ہے نہ کہ انہیں مالی طور پر تباہ کرنا اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے سڑکوں کی مرمت کرے، ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے، عوامی آگاہی مہم چلائے اور پھر مناسب شرح پر جرمانے عائد کرے کراچی کے شہری پہلے ہی زندگی کی سختیوں سے دوچار ہیں ان پر دبئی جیسے جرمانے لاگو کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے جو عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے فیصلے عوامی مشاورت سے کرے تاکہ کراچی کے لوگ بھی یہ محسوس کر سکیں کہ یہ شہر ان کا ہے اور حکومت ان کے ساتھ ہے نہ کہ ان کے خلاف۔

کراچی کے عوام اب ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے یہ شہر جس نے پورے ملک کو روشنی، روزگار اور ریونیو دیا، آج خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لوگ اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک کراچی والے اپنی محنت کا پھل ناانصافی کے بوجھ تلے دباتے رہیں گے؟ کب تک ان سے ترقی یافتہ ملکوں جیسے جرمانے وصول کیے جاتے رہیں گے مگر سہولتیں صدیوں پرانی ملتی رہیں گی؟ حکومت کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کہ عوام کے صبر کو آزمائش میں نہ ڈالے اس شہر کے لوگوں کو ریلیف، احساس اور احترام دیجیے تاکہ وہ ایک بار پھر فخر سے کہہ سکیں کہ ہاں، ہم کراچی والے ہیں، اور یہ شہر واقعی ہمارا ہے۔

 

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ جاتا ہے عوام کے کے لیے کیے جا ہے اور

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟