Jasarat News:
2026-07-24@09:51:54 GMT

ای چالان: انصاف کہاں ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251106-03-7
جمیل احمد خان
کراچی، وہ شہر جو کبھی روشنیوں، محبتوں اور زندگی کی رمق سے بھرپور تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت بے بسی، ناانصافی اور عدمِ احساس کا سایہ منڈلا رہا ہے کبھی یہی شہر پاکستان کی پہچان تھا، جس کی سڑکوں پر زندگی دوڑتی تھی، جس کی فضا میں اْمید کی خوشبو تھی، مگر آج انھی سڑکوں پر عام شہری خوف اور مایوسی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے حکومت نے ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے نام پر جو نیا ای چالان نظام متعارف کرایا ہے، وہ شہریوں کے لیے ایک نئے عذاب سے کم نہیں اب شہر کا ہر ڈرائیور، ہر موٹرسائیکل سوار، ہر مزدور اپنے روزگار کی فکر سے پہلے اس بات سے خوف زدہ رہتا ہے کہ کہیں کوئی نیا چالان اْس کے محدود بجٹ کو نہ نگل جائے یہ احساسِ محرومی اور بے بسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عوام کے دلوں میں قانون کے احترام کے بجائے نفرت اور بداعتمادی کے بیج بو دیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک کے ای چالان کا جو نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے وہ عوام کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا ہے اس نظام کے آغاز کے ساتھ ہی جرمانوں کی شرح اس قدر زیادہ مقرر کر دی گئی ہے کہ عام شہری کے لیے اسے برداشت کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جرمانے ایسے شہر میں عائد کیے جا رہے ہیں جہاں سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہیں، ٹریفک سگنل اکثر خراب رہتے ہیں، لین مارکنگ ناپید ہے، نکاسی آب کا نظام تباہ حال ہے اور انفرا اسٹرکچر مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اس سب کے باوجود شہریوں پر ایسے بھاری جرمانے لاگو کیے جا رہے ہیں جیسے وہ دبئی یا کسی ترقی یافتہ ملک میں گاڑیاں چلا رہے ہوں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا شہری روزانہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ان گڑھوں، کچرے، پانی اور دھول سے بھری سڑکوں پر سفر کرتا ہے مگر اس کی معمولی سی کوتاہی پر ہزاروں روپے کا چالان اس کے منہ پر دے مارا جاتا ہے بعض رپورٹس کے مطابق ہیلمٹ نہ پہننے پر پانچ ہزار، سگنل توڑنے پر دس ہزار اور بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر تیس ہزار روپے تک کے چالان جاری کیے جا رہے ہیں پہلے ہی دن دو ہزار سے زائد چالان کیے گئے جن کی مجموعی رقم ایک کروڑ سے زائد بنتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ رقم ٹریفک کی بہتری پر خرچ ہوگی یا یہ عوام کی جیب سے نکلا ہوا پیسہ کسی اور مد میں جذب ہو جائے گا؟

اگر ہم اس صورتحال کا موازنہ پنجاب سے کریں تو فرق زمین و آسمان کا ہے وہاں جرمانے بہت کم ہیں اور اگر اضافہ بھی کیا جا رہا ہے تو تدریجی بنیادوں پر تاکہ عوام پر ایک دم سے بوجھ نہ پڑے پنجاب میں اب تک موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ نہ پہننے پر دو سو روپے، موبائل فون کے استعمال پر پانچ سو روپے اور سگنل کی خلاف ورزی پر ایک ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور وہاں حکومت پہلے سڑکیں بناتی ہے، لین مارکنگ کرتی ہے، ٹریفک کے اصولوں کی آگاہی دیتی ہے پھر قانون نافذ کرتی ہے جبکہ کراچی میں الٹا نظام رائج ہے یہاں پہلے

جرمانے بڑھا دیے گئے اور بعد میں عوام کو بتایا گیا کہ یہ نظام بہتری کے لیے ہے اگر انفرا اسٹرکچر درست نہیں، ٹریفک پولیس تربیت یافتہ نہیں، سڑکیں قابل استعمال نہیں تو ایسے میں جرمانے لگانا سراسر ظلم ہے۔ عوام کا غصہ بجا ہے کہ پہلے سڑکیں بنائی جائیں، ٹریفک سگنل درست کیے جائیں، پارکنگ کے باقاعدہ مقامات بنائے جائیں اور رشوت ستانی ختم کی جائے اس کے بعد جرمانے لگائے جائیں۔ کراچی کا شہری ویسے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے پریشان ہے اوپر سے اگر اسے روزانہ کسی نہ کسی چالان کا سامنا کرنا پڑے تو وہ جائے تو کہاں جائے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو مگر افسوس کہ یہاں طاقتور اور اثر رسوخ والے طبقے کو کبھی چالان نہیں ملتا عام آدمی جس کی گاڑی یا موٹرسائیکل پر تھوڑا سا بھی فرق نظر آ جائے فوراً اس پر ای چالان بھیج دیا جاتا ہے۔

حکومت کہتی ہے کہ یہ نظام شفاف ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر کیمرے درست زاویے پر نہیں لگے ہوتے، غلط نمبر پلیٹ پڑھ کر بے گناہ شہریوں کو چالان بھیج دیا جاتا ہے اور جب وہ اعتراض درج کرانے جاتے ہیں تو مہینوں ان کا کیس لٹکا رہتا ہے مزید ستم یہ کہ اگر گاڑی کسی مرحوم کے نام پر ہو یا مالک کا پتا نامعلوم ہو تو چالان کا تعین ہی ممکن نہیں رہتا جس سے نظام کی ناقص منصوبہ بندی عیاں ہوتی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب عوام کو تمام سہولتیں فراہم کر دی جائیں تاکہ ان پر کسی قسم کا ظلم یا زیادتی نہ ہو، مگر کراچی میں الٹ ہو رہا ہے یہاں پہلے سزا دی جاتی ہے اور بعد میں سہولت دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا اعتماد ختم ہو جانا فطری امر ہے، ٹریفک کے قوانین کا مقصد عوام کو نظم و ضبط سکھانا ہوتا ہے نہ کہ انہیں مالی طور پر تباہ کرنا اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے سڑکوں کی مرمت کرے، ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے، عوامی آگاہی مہم چلائے اور پھر مناسب شرح پر جرمانے عائد کرے کراچی کے شہری پہلے ہی زندگی کی سختیوں سے دوچار ہیں ان پر دبئی جیسے جرمانے لاگو کرنا انصاف نہیں بلکہ ایک اذیت ناک تجربہ ہے جو عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کرے گا یہ وقت ہے کہ حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور ایسے فیصلے عوامی مشاورت سے کرے تاکہ کراچی کے لوگ بھی یہ محسوس کر سکیں کہ یہ شہر ان کا ہے اور حکومت ان کے ساتھ ہے نہ کہ ان کے خلاف۔

کراچی کے عوام اب ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جہاں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے یہ شہر جس نے پورے ملک کو روشنی، روزگار اور ریونیو دیا، آج خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے لوگ اب یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک کراچی والے اپنی محنت کا پھل ناانصافی کے بوجھ تلے دباتے رہیں گے؟ کب تک ان سے ترقی یافتہ ملکوں جیسے جرمانے وصول کیے جاتے رہیں گے مگر سہولتیں صدیوں پرانی ملتی رہیں گی؟ حکومت کے لیے یہ لمحہ ٔ فکر ہے کہ عوام کے صبر کو آزمائش میں نہ ڈالے اس شہر کے لوگوں کو ریلیف، احساس اور احترام دیجیے تاکہ وہ ایک بار پھر فخر سے کہہ سکیں کہ ہاں، ہم کراچی والے ہیں، اور یہ شہر واقعی ہمارا ہے۔

 

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یہ ہے کہ جاتا ہے عوام کے کے لیے کیے جا ہے اور

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت