data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے نائب صدر اور کنوینر بینکنگ افیئر ز کمیٹی شان سہگل نے میزان بینک کے زیر اہتمام منعقدہ اسلامی آگاہی سیمینار میں شرکت کی ۔سیمینار میں بڑی تعداد میں کاروباری، سماجی اور بینکنگ شخصیات نے شرکت کی، جبکہ مفتی محمد نوید (شریعہ اینالسٹایس ایم ای/ کمرشل اینڈ انویسٹمنٹ بینکنگ) نے اسلامی بینکنگ کے اصول، بنیادیں اور روایتی بینکاری نظام سے اس کے فرق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔مفتی محمد نوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی بینکنگ قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی ایک شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی نظام ہے، جس کا بنیادی مقصد سود سے پاک لین دین، عدل و مساوات پر مبنی سرمایہ کاری، اور حلال منافع کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسلامی بینکنگ میں منافع و نقصان کی بنیاد پر اشتراک کااصول اختیار کیا جاتا ہے، جو حقیقی تجارت اور شراکت پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ سودی نظام پر۔ انہوں نے مختلف اسلامی بینکاری مصنوعات جیسے مرابحہ، اجارہ، مشارکہ اور مضاربہ کی عملی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی اور بتایا کہ یہ نظام نہ صرف کاروباری طبقے کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ ملک کی معیشت کو استحکام اور انصاف پر مبنی ترقی دینے میں اہم کردارادا کر رہا ہے۔شان سہگل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میزان بینک کی جانب سے اسلامی بینکنگ آگاہی سیمینارز کا انعقاد نہایت خوش آئند ہے۔ ایسے پروگرامز نہ صرف تاجر برادری کو شریعہ کمپلائنٹ فنانسنگ کے فوائد سے آگاہ کرتے ہیں بلکہ اسلامی معیشت کے فروغ کی سمت ایک مضبوط قدم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد چیمبر بینکنگ سیکٹر کے ساتھ قریبی روابط کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ اسمال ٹریڈرز اور انڈسٹریز کو اسلامی مالیاتی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔شان سہگل نے میزان بینک کی طویل المدتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بینک کی جانب سے پورے ملک میں اسلامی بینکنگ آگاہی سیمینارز، تحقیقی و تعلیمی مواد، اور نالج سینٹر کے قیام نے کاروباری طبقے کے اعتماد میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔انہوں نے ایونٹ کے دوران ایریا مینجر فرحان میمن سے ملاقات میں انہیںتجویز دی کہ مستقبل میں حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری اور میزان بینک مشترکہ طور پر ورکشاپس، مشاورتی سیشنز اور آگاہی سیمنارز کاچیمبر سیکرٹریٹ میں بھی اہتمام کریں تاکہ چھوٹے تاجروں کو اسلامی مالیاتی نظام کے عملی تقاضوں سے بہتر طور پر روشناس کرایا جا سکے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی بینکنگ انہوں نے ا گاہی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ