بادشاہ چارلس نے شہزادہ اینڈریو کے شاہی عہدے اور رہائش گاہ واپس لے لی
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
لندن: برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ اینڈریو سے تمام شاہی خطابات اور ونڈسر کی رہائش گاہ واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے جڑے نئے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی شاہی محل بکنگھم پیلس کے مطابق، اب شہزادہ اینڈریو کو سرکاری طور پر اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کے نام سے جانا جائے گا۔ محل نے تصدیق کی کہ بادشاہ چارلس نے اپنے بھائی کے تمام شاہی عہدے اور اعزازی خطابات ختم کرنے کے لیے باضابطہ عمل شروع کر دیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شہزادہ اینڈریو کو ونڈسر کیسل کے احاطے میں واقع اپنی طویل مدتی رہائش گاہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور وہ جلد از جلد کسی متبادل نجی رہائش میں منتقل ہوں گے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایپسٹین کیس کی مرکزی گواہ ورجینیا جیفری کی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں ایک بار پھر اینڈریو پر جنسی زیادتی کے الزامات کو دہرایا گیا۔
بکنگھم پیلس نے کہا کہ “یہ اقدامات ضروری سمجھے گئے ہیں، اگرچہ شہزادہ اینڈریو اب بھی تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔”
محل کے بیان میں مزید کہا گیا، “بادشاہ اور ملکہ کے خیالات اور ہمدردیاں ہمیشہ ان متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ رہیں گی جنہیں کسی بھی قسم کے استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔”
ورجینیا جیفری کے اہلخانہ نے اس فیصلے کو "ایک تاریخی فتح" قرار دیتے ہوئے کہا کہ “آج ایک عام امریکی لڑکی نے اپنی سچائی اور ہمت سے ایک برطانوی شہزادے کو نیچے گرا دیا۔”
خیال رہے کہ شہزادہ اینڈریو، مرحوم ملکہ الزبتھ دوم کے دوسرے بیٹے ہیں۔ انہوں نے 2022 میں ورجینیا جیفری سے ملینز آف ڈالرز کی رقم ادا کر کے امریکا اور آسٹریلیا میں دائر سول مقدمے کو ختم کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہزادہ اینڈریو
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔