ڈی جی این سی سی اے وقارالدین سید کو ہٹا دیا گیا، سید خرم علی تعینات
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل وقارالدین سید کو عہدے سے ہٹا دیا۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وقارالدین سید کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ان کی جگہ پولیس سروس آف پاکستان (PSP) کے گریڈ 21 کے افسر سید خرم علی کو نیا ڈی جی نیشنل سائبر کرائم ایجنسی تعینات کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقرری اور تبادلے کے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیے ہیں۔ نئے ڈی جی سید خرم علی جلد اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے بعض افسران پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آنے پر وفاقی وزیر داخلہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ نے کرپشن الزامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا ہوا ہے، اور اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مختلف کارروائیوں کے دوران اربوں روپے کی رقم وصول کی گئی، جو بعدازاں بیرونِ ملک منتقل کی جاتی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسروں کے بیرونِ ملک سفر کی تفصیلات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں، جب کہ مزید افسران سے بھی تحقیقات کا دائرہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔