اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر خالد خورشید کی حکومت گرائی، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
ایک مقامی ویب چینل کو انٹرویو کے دوران پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے اعتراف کیا کہ خالد خورشید ان کا مخالف تھا، اس لیے ان کو گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد مل گئی اور اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے سے ہی خالد خورشید کی حکومت گرائی۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر خالد خورشید کی حکومت گرائی۔ ایک مقامی ویب چینل کو انٹرویو کے دوران امجد حسین ایڈووکیٹ نے اعتراف کیا کہ خالد خورشید ان کا مخالف تھا، اس لیے ان کو گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد مل گئی اور اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے سے ہی خالد خورشید کی حکومت گرائی۔ جب ان سے سوال کیا کہ آپ نے اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ لی تو کیا ٹھیک کام کیا؟ جس پر امجد حسین ایڈووکیٹ کا جواب تھا کہ جب انہوں (خالد خورشید) نے تنگ کیا، ہمیں چھیڑا تو ان کو ہر صورت گرانا تو تھا، وہ میرا دشمن تھا، میرا مخالف تھا، اس لیے ان کو گرانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی مدد لی۔ یہ غیرت کا سوال تھا، میں ان کیلئے اپنی سیاسی موت کیسے برداشت کر سکتا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد خورشید کی حکومت گرائی امجد حسین ایڈووکیٹ اسٹیبلشمنٹ کے اسٹیبلشمنٹ کی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔