پشاور: وزیر اعلیٰ کے دورے میں پروٹوکول کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر کو شوکاز نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل خان آفریدی کے لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے دورے کے دوران اپنا تعارف نہ کروانے پر اسپتال انتظامیہ نے متعلقہ ڈاکٹر سے وضاحت طلب کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں آئندہ 3 یوم میں جواب دینے کی ہدایت دی گئی ہے، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 25 نومبر 2025 کو دہشت گردی کے شکار اہلکاروں کی عیادت کے لیے اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں آئے لیکن اس موقع پر متعلقہ ڈاکٹر نے اپنا تعارف پیش نہ کیا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی جو کہ پروٹوکول اور کوآرڈینیشن کے اصولوں کے بالکل منافی ہے۔
اسپتال کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ آئندہ ایسے مواقع پر ضابطہ کار کے مطابق تمام اقدامات کرنا لازمی ہیں تاکہ پروٹوکول کی خلاف ورزی نہ ہو اور دوروں کا مقصد مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر اعلی
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔