یورپی یونین کمشنر کا غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کاررائیوں کا اعتراف، پاکستان کے دورے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی سے برسلز میں ہونے والی اہم ملاقات میں یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور میگنس برنر نے یورپ پہنچنے کی کوششوں میں غیر قانونی تارکین کی تعداد میں 47 فیصد کمی پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی اور یورپی کمشنر نے انسانی اسمگلنگ، منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان: افغان تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن، کوئٹہ سے 100 سے زیادہ افراد گرفتار
محسن نقوی نے گفتگو میں زور دیا کہ اسمگلرز، ڈرگ مافیا اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ دنیا بھر کے ممالک کے لیے بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ کمشنر نے اعلان کیا کہ غیر قانونی امیگریشن پر مشاورت کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں 1,770 انسانی اسمگلرز اور ایجنٹس گرفتار کیے گئے، جو غیر قانونی امیگریشن کے خلاف حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔
دونوں فریقوں نے مستقبل میں بھی مشترکہ کارروائیوں، معلومات کے تبادلے اور ممکنہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔