یورپی یونین نے گوگل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
یورپی کمیشن نے گوگل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے کیونکہ کمپنی کی مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی سمریز سرچ نتائج کے ٹاپ پر ظاہر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی میں ’کوڈ ریڈ‘ نافذ: گوگل کے ہاتھوں چیٹ جی پی ٹی کی برتری خطرے میں
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمیشن جانچ کرے گا کہ آیا گوگل نے ویب سائٹس کے مواد کو اپنی اے آئی خدمات کے لیے استعمال کیا اور کیا اس نے پبلشرز کو مناسب معاوضہ دیا یا نہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ یوٹیوب ویڈیوز کو کمپنی کے اے آئی سسٹمز کی تربیت کے لیے استعمال کیا گیا اور کیا مواد بنانے والوں کو اس سے انکار کرنے کا موقع ملا یا نہیں۔
گوگل کا مؤقفگوگل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات جدت کو روکنے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں اور لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
گوگل کے اے آئی اوورویو فیچر کے بعد ویب سائٹس پر آنے والے وزٹرز کی تعداد میں کمی دیکھی گئی۔
مثال کے طور پر ڈیلی میل کے مطابق اس کے لنکس پر کلکس تقریباً 50 فیصد کم ہو گئے۔
مزید پڑھیے: گوگل کا نیا امیج جنریشن ماڈل لانچ، کیا اب اصل نقل کی پہچان ناممکن ہوجائے گی؟
کمیشن کا کہنا ہے کہ پبلشرز اور یوٹیوب کریئیٹرز کو اپنے مواد کے استعمال پر کنٹرول یا معاوضہ نہیں ملا جس سے ان کے حقوق اور روزگار پر اثر پڑ سکتا ہے۔
اے آئی ماہرین نے خبردار کیا کہ لوگ اگر آن لائن مواد شائع نہ کریں تو وہ کریئر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ گوگل کا سسٹم ان کا مواد اپنی اے آئی ٹولز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
تربیت اور اے آئی کی صلاحیتیںگوگل کے جنریٹو اے آئی سسٹمز چند سیکنڈز میں متن، تصاویر اور ویڈیوز تیار کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گارجیئن رپورٹ: اسرائیل مکروہ ہتھکنڈوں کے لیے گوگل اور ایمیزون کو کس طرح استعمال کر رہا ہے؟
متعدد کمپنیوں نے اپنی اے آئی تربیت کے لیے آن لائن مواد کا استعمال کیا لیکن کریئیٹرز کو خدشہ ہے کہ ان کا کام بڑے ٹیک اداروں کے اے آئی پروڈکٹس میں استعمال ہو رہا ہے اور انہیں اس کا فائدہ نہیں مل رہا۔
کمیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر تیرسا ریبیرا نے کہا کہ اے آئی جدت اور فائدے لے کر آ رہا ہے لیکن یہ یورپی اقدار اور جمہوریت پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل سمری گوگل کے خلاف تحقیقات یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گوگل گوگل سمری گوگل کے خلاف تحقیقات یورپی یونین گوگل کے اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘