معیشت کو ڈنڈے سے نہیں چلایا جا سکتا، ضلعی اکانومی ناگزیر ہے، بلاول
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی سمت درست کرنے کے لیے مرکزی کنٹرول کے بجائے ضلعی سطح کی معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا کیونکہ معیشت کو دباؤ یا زبردستی کے ذریعے نہیں چلایا جاسکتا۔
بزنس کمیونٹی اور ایف پی سی سی آئی کے ایڈوائزری گروپ سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئےبلاول نے کہا کہ ملک میں کاروبار اور معیشت سے متعلق حقائق اکثر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جاتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اس بحث کو چھوڑ کر مستقبل پر توجہ دینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی پالیسی واضح ہے کہ سینٹرلائزیشن نہیں بلکہ ڈی سینٹرلائزیشن ہی پاکستان کی معاشی بنیادوں کو مضبوط بنا سکتی ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی ایف پی سی سی آئی کے ضلعی معاشی پروگرام کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بطور وزیر خارجہ انہوں نے خود دیکھا کہ چین نے پاکستان کو مختلف معاشی سہولتیں فراہم کیں لیکن ملک ان مواقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکا، پاک چین تعلقات تین نسلوں سے قائم ہیں اور پیپلز پارٹی ہمیشہ ان تعلقات کی مضبوطی کا ذریعہ رہی ہے، پاکستان کو ضلعی سطح پر نئی معاشی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی تاکہ مقامی صنعت اور کاروباری سرگرمیوں میں حقیقی بہتری آسکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری ٹیرف وار نے پاکستان کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے، جبکہ جی ایس پی پلس کی وجہ سے یورپ میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں بھی اضافہ ہوا، صدر پاکستان، گورنر پنجاب، گورنر خیبر پختونخوا، سندھ حکومت اور وزیراعظم تمام ہی کاروباری طبقے کے مسائل حل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
بلاول بھٹو نے مؤقف اپنایا کہ 18ویں ترمیم سے پہلے وفاق سیلز ٹیکس وصول کرتا تھا لیکن صوبوں کو بااختیار بنانا ملکی معیشت کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوا، ملک کا اقتصادی ڈھانچہ اسی وقت مضبوط ہوگا جب مقامی سطح پر کاروبار کو سہولت اور خودمختاری فراہم کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے لیے
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔