تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعلامیے اور فیصلوں میں اختلافات سامنے آگئے۔پی ٹی آئی ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ اعلامیہ کس نے بنایا،اجلاس کےاعلامیے میں شامل نکات پر بات ہی نہیں ہوئی جب کہ ان ارکان نے گروپس میں کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں کچھ بات ہوتی ہےباہرکچھ بتایا جاتا ہے۔اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے کہا کہ مجھے رانا ثناء اللہ یا وفاقی وزیر کی کمیٹی بنانے کی پیشکش کا علم نہیں، کل پارلیمانی پارٹی میں کسی کمیٹی میں شمولیت کی پیشکش پر بات نہیں ہوئی،اڈیالاجیل سہولیات پرکمیٹی میں شمولیت پرمیری موجودگی میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے ارکان ڈاکٹرامجد اورصاحبزادہ صبغت اللہ نےمیڈیا سے گفتگو کی ۔ڈاکٹرامجد نے کہا کہ کل پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وفاقی وزیر کی کمیٹی میں شمولیت کاکوئی فیصلہ نہیں ہوا، میرےخیال میں موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے ممکن نہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھیں، جن کے پاس اختیار نہیں ان کے ساتھ جا کر کیا بیٹھیں یا شامل ہوں، تحریک انصاف نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جو مذاکرات ہوں وہ نتائج کے حامل ہوں، ہم نے سوشل میڈیا اور صحافیوں سے یہ باتیں سنی ہیں،کسی وزیر کی کمیٹی سےمتعلق پارلیمانی کمیٹی میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی کمیٹی میں کہا کہ

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن