پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں پھوٹ! اعلامیے پر ارکان کے سنگین اعتراضات
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اعلامیے اور فیصلوں میں اختلافات سامنے آگئے۔پی ٹی آئی ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ اعلامیہ کس نے بنایا،اجلاس کےاعلامیے میں شامل نکات پر بات ہی نہیں ہوئی جب کہ ان ارکان نے گروپس میں کہا کہ پارلیمانی پارٹی میں کچھ بات ہوتی ہےباہرکچھ بتایا جاتا ہے۔اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے کہا کہ مجھے رانا ثناء اللہ یا وفاقی وزیر کی کمیٹی بنانے کی پیشکش کا علم نہیں، کل پارلیمانی پارٹی میں کسی کمیٹی میں شمولیت کی پیشکش پر بات نہیں ہوئی،اڈیالاجیل سہولیات پرکمیٹی میں شمولیت پرمیری موجودگی میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔دوسری جانب پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے ارکان ڈاکٹرامجد اورصاحبزادہ صبغت اللہ نےمیڈیا سے گفتگو کی ۔ڈاکٹرامجد نے کہا کہ کل پارلیمانی پارٹی اجلاس میں وفاقی وزیر کی کمیٹی میں شمولیت کاکوئی فیصلہ نہیں ہوا، میرےخیال میں موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے ممکن نہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھیں، جن کے پاس اختیار نہیں ان کے ساتھ جا کر کیا بیٹھیں یا شامل ہوں، تحریک انصاف نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا۔صاحبزادہ صبغت اللہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جو مذاکرات ہوں وہ نتائج کے حامل ہوں، ہم نے سوشل میڈیا اور صحافیوں سے یہ باتیں سنی ہیں،کسی وزیر کی کمیٹی سےمتعلق پارلیمانی کمیٹی میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پارلیمانی پارٹی کمیٹی میں کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔